ترجمہ — Tafsir
ذوالنون (مچھلی والے) سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں، جنہیں اس لیے یہ نام دیا گیا کہ ایک بڑی مچھلی (نون) نے انہیں نگل لیا تھا۔ "مغاضبًا" کا مطلب ہے غصے کی حالت میں نکل جانا، اور "نقدر علیہ" کا مطلب ہے تنگی کرنا یا سختی سے پکڑنا۔ "الظلمات" سے مراد تین قسم کی تاریکیاں ہیں: رات کی تاریکی، سمندر کی تاریکی، اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔
یہ آیت کریمہ ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کے اس واقعے سے روشناس کراتی ہے جو انبیاء علیہم السلام کی عظیم الشان تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی قوم کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا، لیکن وہ قوم اپنی سرکشی اور نافرمانی پر اڑی رہی۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں عذاب کی دھمکی دی، مگر جب انہوں نے توبہ نہ کی تو آپ علیہ السلام اپنے رب کی اجازت کے بغیر، اپنی قوم سے ناراض ہو کر شہر سے نکل گئے۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں ڈالیں گے اور اس خلافِ ادب پر انہیں نہیں پکڑیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت آزمائش میں ڈال دیا — انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا اور ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ اس مصیبت میں انہوں نے رات کی تاریکی، سمندر کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی کے اندر سے اپنے رب کو پکارا، اپنے قصور کا اعتراف کیا اور یہ دعا کی: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين" یعنی "تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔"
اس واقعے سے ہمیں بہت سی عبرتیں اور سبق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی غلطیوں کو بھی نظر انداز نہیں فرماتا، چاہے وہ کتنے ہی بلند مرتبہ ہوں۔ حضرت یونس علیہ السلام جیسے عظیم نبی کو بھی اپنے اس عمل پر اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ مصیبت اور پریشانی میں اللہ کی طرف رجوع کرنا، اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا اور توبہ کرنا ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی یہ دعا اللہ کے ہاں اتنی محبوب تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مصیبت سے نجات دی اور فرمایا کہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بھی ہم کسی مشکل اور پریشانی میں مبتلا ہوں، ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ یہ دعا ہر مسلمان کے لیے بہت بڑی نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو قرآن میں اس لیے بیان کیا تاکہ ہم انبیاء علیہم السلام کی سیرت سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگیوں میں ان کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اس کی رحمت کے طلب گار رہیں۔ آمین۔
📜 آیت 85-89 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 87
سورہ انبیاء آیت 87 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے…سورہ آیت 87/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 85–89. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








