ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رحمتنا: ہماری رحمت، جس سے مراد نبوت، ہدایت اور جنت کی رحمت ہے۔
- الصالحین: نیک اور صالح لوگ، جن کے باطن اور ظاہر دونوں صالح ہوں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اسماعیل، الیسع اور یونس علیہم السلام کا ذکر فرما رہے ہیں، جن کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا، یعنی انہیں نبوت جیسی عظیم نعمت عطا کی، انہیں ہدایت دی، اور انہیں جنت میں داخل فرمایا۔ یہ سب کچھ ان کی عظمت اور مقام کی بلندی کی وجہ سے تھا۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کی صفت بیان کرتا ہے کہ وہ صالحین میں سے تھے، یعنی وہ کامل صلاحیت والے تھے، ان کے باطن اور ظاہر دونوں صالح تھے، ان کی سرائر اور علانیات دونوں نیکی پر قائم تھیں۔ وہ اپنے رب کی اطاعت میں مصروف رہتے، اور ان کی زندگی کا ہر پہلو اللہ کی رضا کے مطابق تھا۔ انبیاء علیہم السلام کی صلاحیت معصوم ہوتی ہے، یعنی وہ کسی قسم کے فساد اور گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رحمت انہیں لوگوں کو ملتی ہے جو صالح ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کی رحمت ہم پر نازل ہو، تو ہمیں اپنے باطن اور ظاہر دونوں کو صالح بنانا ہوگا۔ نیکی صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں، بلکہ دل کی پاکیزگی اور نیت کی درستی بھی ضروری ہے۔ جب انسان اپنے اندر کو صالح کر لیتا ہے، تو اللہ اسے اپنی خاص رحمت سے نوازتا ہے۔ آئیے ہم بھی ان انبیاء کی سیرت سے روشنی حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم بھی ان صالحین میں شامل ہو سکیں جنہیں اللہ نے اپنی رحمت میں داخل فرمایا۔
📜 آیت 84-88 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 86
سورہ انبیاء آیت 86 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔…سورہ آیت 86/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 84–88. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








