ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَاسْتَجَبْنَا: ہم نے دعا قبول کی۔
- الْغَمِّ: رنج، غم، مصیبت کی شدت، اندیشہ۔
- نُنجِي: ہم نجات دیتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے اور اندھیروں میں گھرے ہوئے تھے، تو انہوں نے اپنے رب کو پکارا: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين" (کوئی معبود نہیں سوائے تیرے، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "فَاسْتَجَبْنَا لَهُ" یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور "وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ" یعنی ہم نے انہیں اس شدید غم اور کرب سے نجات دی، جو اندھیروں کی تہہ میں تھے، مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ساحل پر ڈال دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم بشارت دی: "وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ" یعنی جس طرح ہم نے یونس علیہ السلام کو ان کی دعا کی برکت سے نجات دی، اسی طرح ہم ہر اس مومن کو نجات دیتے ہیں جو حقیقی ایمان رکھتا ہو، اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اور مصیبت کے وقت اس سے مدد مانگے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی پکار کو سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو دور فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور امید کا پیغام ہے۔ جب بھی آپ کوئی مشکل، پریشانی، یا اندھیرے میں گھری ہوئی صورت حال محسوس کریں، تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ قریب ہے، وہ دعا سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تھے، لیکن ان کی دعا نے انہیں نکال لیا۔ آپ بھی جب دل سے اللہ کو پکاریں گے، تو وہ آپ کی مدد فرمائے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ ایمان حقیقی ہو، اور دل اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے: "دعا کرو مجھ سے، میں قبول کروں گا" (غافر: 60)۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ سے جڑے رہیں، اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اس کی طرف رجوع کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نجات اور سکون کی طرف لے جاتا ہے۔
📜 آیت 86-90 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 88
سورہ انبیاء آیت 88 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان…سورہ آیت 88/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








