انبیاء · 88/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ ۝٨٨
Fastajabnaa lahoo wa najjainaahu minal ghamm; wa kazaalika nunjil mu`mineen
📖 اردو ترجمہ
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَاسْتَجَبْنَا: ہم نے دعا قبول کی۔
  • الْغَمِّ: رنج، غم، مصیبت کی شدت، اندیشہ۔
  • نُنجِي: ہم نجات دیتے ہیں۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے اور اندھیروں میں گھرے ہوئے تھے، تو انہوں نے اپنے رب کو پکارا: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين" (کوئی معبود نہیں سوائے تیرے، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "فَاسْتَجَبْنَا لَهُ" یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی، اور "وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ" یعنی ہم نے انہیں اس شدید غم اور کرب سے نجات دی، جو اندھیروں کی تہہ میں تھے، مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ساحل پر ڈال دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم بشارت دی: "وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ" یعنی جس طرح ہم نے یونس علیہ السلام کو ان کی دعا کی برکت سے نجات دی، اسی طرح ہم ہر اس مومن کو نجات دیتے ہیں جو حقیقی ایمان رکھتا ہو، اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اور مصیبت کے وقت اس سے مدد مانگے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی پکار کو سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو دور فرماتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور امید کا پیغام ہے۔ جب بھی آپ کوئی مشکل، پریشانی، یا اندھیرے میں گھری ہوئی صورت حال محسوس کریں، تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ قریب ہے، وہ دعا سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تھے، لیکن ان کی دعا نے انہیں نکال لیا۔ آپ بھی جب دل سے اللہ کو پکاریں گے، تو وہ آپ کی مدد فرمائے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ ایمان حقیقی ہو، اور دل اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے: "دعا کرو مجھ سے، میں قبول کروں گا" (غافر: 60)۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ سے جڑے رہیں، اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اس کی طرف رجوع کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نجات اور سکون کی طرف لے جاتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 86-90 — انبیاء

86وَأَدْخَلْنَاهُمْ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُم مِّنَ الصَّالِحِينَ
اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ وہ نیکوکار تھے
87وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں
88فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں
89وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے
90فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ
تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
88آیت

ترجمہ — انبیاء 88

سورہ انبیاء آیت 88 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان…

سورہ آیت 88/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں