ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تُجَادِلُوا: جھگڑا نہ کرو، بحث و مباحثہ نہ کرو۔
- بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ: اس طریقے سے جو سب سے بہتر ہو، یعنی نرمی، حکمت اور خوبصورت انداز سے۔
- ظَلَمُوا: جنہوں نے ظلم کیا، یعنی عناد اور ضد کی راہ اختیار کی اور حق کے مقابلے میں سرکشی کی۔
- مُسْلِمُونَ: اطاعت گزار، فرمانبردار، اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنے والے۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) سے بحث و مباحثہ نہ کرو، مگر اس طریقے سے جو سب سے اچھا اور بہترین ہو۔ یعنی تمہاری گفتگو نرمی، حکمت، حسنِ اخلاق اور مدلل انداز پر مبنی ہو، تاکہ ان کے دلوں پر حق بات کا اثر پڑے اور وہ تمہاری بات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تمہارا مقصد انہیں جھگڑے میں الجھانا نہیں، بلکہ حق تک پہنچانا ہونا چاہیے۔
البتہ ان میں سے جو لوگ ظلم کریں، یعنی عناد اور ضد پر اتر آئیں، حق کو ماننے سے انکار کریں اور تمہارے خلاف جنگ و جدال کا اعلان کر دیں، تو ان کے ساتھ تمہارا معاملہ نرمی اور بحث کا نہیں، بلکہ ان سے مقابلہ اور جہاد کا ہے، یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں یا جزیہ دینے پر راضی ہو جائیں۔
اور اہل کتاب سے گفتگو کا بہترین انداز یہ ہے کہ تم ان سے کہو: "ہم اس پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا (یعنی قرآن مجید) اور اس پر بھی ایمان لائے جو تمہاری طرف نازل کیا گیا (یعنی تورات اور انجیل)۔ ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں، نہ اس کے حقوق میں۔ اور ہم اسی کے فرمانبردار اور اطاعت گزار ہیں۔"
یہ وہ عظیم پیغام ہے جو اسلام دیتا ہے — ایک اللہ پر ایمان، تمام آسمانی کتابوں پر ایمان، اور تمام انبیاء پر ایمان۔ یہ وہ مشترکہ بنیاد ہے جس پر اہل کتاب کے ساتھ گفتگو کی جانی چاہیے، تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ اسلام کوئی نیا اور اجنبی دین نہیں، بلکہ یہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء لے کر آئے تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کو حق کی دعوت دینے کا بہترین طریقہ حکمت، نرمی اور حسنِ اخلاق ہے۔ جھگڑا اور تلخی کبھی دل نہیں بدلتی، لیکن محبت اور حکمت سے پیش آنے والا انداز دلوں کو نرم کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اہل کتاب اور تمام لوگوں سے اس انداز میں بات کریں جو ان کے دلوں میں حق کی محبت پیدا کرے، اور انہیں یہ باور کرائے کہ اسلام امن، محبت اور توحید کا دین ہے۔ یاد رکھیں، ہمارا ایمان تمام کتابوں اور تمام انبیاء پر ہے، اور یہی وہ خوبصورت پیغام ہے جو دنیا کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہے۔
📜 آیت 44-48 — عنکبوت
ترجمہ — عنکبوت 46
سورہ عنکبوت آیت 46 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق…سورہ آیت 46/69 — عنکبوت العنكبوت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عنکبوت سنیں, عنکبوت ترجمہ, عنکبوت mp3, عنکبوت pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








