آل عمران · 153/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ ۗ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۝١٥٣
Iz tus`idoona wa laa talwoona `alaaa ahadinw war Rasoolu yad`ookum feee ukhraakum fa asaabakum ghammam bighammil likailaa tahzanoo `alaa maa faatakum wa laa maaa asaabakum; wallaahu khabeerum bimaa ta`maloon
📖 اردو ترجمہ
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تُصْعِدُونَ: پہاڑ کی طرف بھاگتے ہوئے اوپر چڑھنا۔
  • لَا تَلْوُونَ: مڑ کر نہ دیکھنا، کسی کی طرف توجہ نہ کرنا۔
  • أُخْرَاكُمْ: تمہارے پیچھے۔
  • فَأَثَابَكُمْ: تو اس نے تمہیں بدلہ دیا۔
  • غَمًّا بِغَمٍّ: ایک رنج کے بدلے دوسرا رنج۔

تفسیر:

اے ایمان والو! اس وقت کو یاد کرو جب احد کی جنگ میں تم نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی، اور تیر اندازوں کے پہاڑی درے سے ہٹ جانے کی وجہ سے تم پر مصیبت آئی۔ تم پہاڑ کی طرف بھاگے جا رہے تھے، اور شدتِ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے نہ تم کسی کی طرف مڑ کر دیکھتے تھے، نہ کسی کی آواز پر توجہ دیتے تھے۔ تم ایک دوسرے کو بھول چکے تھے، بس اپنی جان بچانے کی فکر تھی۔

اور اس حال میں رسول اللہ ﷺ جو تمہارے پیچھے میدانِ جنگ میں ثابت قدم کھڑے تھے، تمہیں پکار رہے تھے: "اے اللہ کے بندو! میری طرف آؤ، میری طرف آؤ!" لیکن تم نہ سن رہے تھے اور نہ دیکھ رہے تھے۔ تمہاری یہ حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے تمہیں رنج پر رنج دیا — پہلے شکست کا غم، پھر یہ غم کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں افواہ پھیل گئی کہ وہ شہید ہو گئے، اور تمہیں یہ اندیشہ لاحق ہوا۔

یہ سب کچھ اس لیے ہوا تاکہ تمہیں سبق ملے اور تم اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ اور جب تمہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں اور تمہیں کوئی بڑی مصیبت نہیں پہنچی، تو تمہارے دلوں سے وہ تمام رنج نکل گئے جو شکست اور نقصان پر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس غم سے نجات دی تاکہ تم پر جو کچھ گزرا — چاہے وہ مال و غنیمت کا نقصان ہو یا زخم اور تکلیف — اس پر تم حزن و ملال نہ کرو، کیونکہ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ تمہارا نبی ﷺ محفوظ ہے۔

اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے — وہ جانتا ہے جو کچھ تم نے کیا، جو کچھ تمہارے دلوں میں گزرا، اور جو کچھ تم کرتے ہو۔ اس کی نگاہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ جب ہم اپنے نبی ﷺ کے حکم سے ہٹ جاتے ہیں تو مصیبتیں ہم پر آتی ہیں۔ دوسرا سبق یہ کہ مصیبت کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ ہی اصل چیز ہے۔ تیسرا سبق یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند کرے اور انہیں سبق سکھائے۔ اور جب ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ہمارے دلوں سے غم اور پریشانی دور کر دیتا ہے۔

یاد رکھیں! یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، اور ہر مصیبت کے پیچھے اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آئیے ہم اپنے نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامیں، ان کی اطاعت کریں، اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں۔ اللہ ہمیں صبر اور شکر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 151-155 — آل عمران

151سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ۖ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے
152وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس وقت جبکہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور خدا مومنو پر بڑا فضل کرنے والا ہے
153۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَىٰ أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ ۗ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
154ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّن بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَىٰ طَائِفَةً مِّنكُمْ ۖ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ۗ يُخْفُونَ فِي أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ لَكَ ۖ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هَاهُنَا ۗ قُل لَّوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
155إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
153آیت

ترجمہ — آل عمران 153

سورہ آل عمران آیت 153 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم…

سورہ آیت 153/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 151–155. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں