ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تُصْعِدُونَ: پہاڑ کی طرف بھاگتے ہوئے اوپر چڑھنا۔
- لَا تَلْوُونَ: مڑ کر نہ دیکھنا، کسی کی طرف توجہ نہ کرنا۔
- أُخْرَاكُمْ: تمہارے پیچھے۔
- فَأَثَابَكُمْ: تو اس نے تمہیں بدلہ دیا۔
- غَمًّا بِغَمٍّ: ایک رنج کے بدلے دوسرا رنج۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اس وقت کو یاد کرو جب احد کی جنگ میں تم نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی، اور تیر اندازوں کے پہاڑی درے سے ہٹ جانے کی وجہ سے تم پر مصیبت آئی۔ تم پہاڑ کی طرف بھاگے جا رہے تھے، اور شدتِ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے نہ تم کسی کی طرف مڑ کر دیکھتے تھے، نہ کسی کی آواز پر توجہ دیتے تھے۔ تم ایک دوسرے کو بھول چکے تھے، بس اپنی جان بچانے کی فکر تھی۔
اور اس حال میں رسول اللہ ﷺ جو تمہارے پیچھے میدانِ جنگ میں ثابت قدم کھڑے تھے، تمہیں پکار رہے تھے: "اے اللہ کے بندو! میری طرف آؤ، میری طرف آؤ!" لیکن تم نہ سن رہے تھے اور نہ دیکھ رہے تھے۔ تمہاری یہ حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے تمہیں رنج پر رنج دیا — پہلے شکست کا غم، پھر یہ غم کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں افواہ پھیل گئی کہ وہ شہید ہو گئے، اور تمہیں یہ اندیشہ لاحق ہوا۔
یہ سب کچھ اس لیے ہوا تاکہ تمہیں سبق ملے اور تم اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ اور جب تمہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں اور تمہیں کوئی بڑی مصیبت نہیں پہنچی، تو تمہارے دلوں سے وہ تمام رنج نکل گئے جو شکست اور نقصان پر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس غم سے نجات دی تاکہ تم پر جو کچھ گزرا — چاہے وہ مال و غنیمت کا نقصان ہو یا زخم اور تکلیف — اس پر تم حزن و ملال نہ کرو، کیونکہ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ تمہارا نبی ﷺ محفوظ ہے۔
اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے — وہ جانتا ہے جو کچھ تم نے کیا، جو کچھ تمہارے دلوں میں گزرا، اور جو کچھ تم کرتے ہو۔ اس کی نگاہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ جب ہم اپنے نبی ﷺ کے حکم سے ہٹ جاتے ہیں تو مصیبتیں ہم پر آتی ہیں۔ دوسرا سبق یہ کہ مصیبت کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ ہی اصل چیز ہے۔ تیسرا سبق یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند کرے اور انہیں سبق سکھائے۔ اور جب ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ہمارے دلوں سے غم اور پریشانی دور کر دیتا ہے۔
یاد رکھیں! یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، اور ہر مصیبت کے پیچھے اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آئیے ہم اپنے نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامیں، ان کی اطاعت کریں، اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں۔ اللہ ہمیں صبر اور شکر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 151-155 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 153
سورہ آل عمران آیت 153 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم…سورہ آیت 153/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 151–155. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








