ترجمہ — Tafsir
آیت کا ترجمہ:
"اور یقیناً اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے ہمت ہار دی اور کام میں اختلاف کیا اور اس کے بعد کہ اس نے تمہیں وہ چیز دکھا دی جو تم پسند کرتے تھے، تم نے نافرمانی کی۔ تم میں سے کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں سے کوئی آخرت چاہتا تھا۔ پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے، اور یقیناً اس نے تمہیں معاف کر دیا، اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔"
معانی الفاظ:
- تَحُسُّونَهُمْ: انہیں قتل کر رہے تھے، یعنی شدید قتل۔
- فَشِلْتُمْ: تم نے ہمت ہار دی، بزدلی دکھائی۔
- تَنَازَعْتُمْ: تم نے آپس میں اختلاف کیا۔
- صَرَفَكُمْ: اس نے تمہیں پھیر دیا، یعنی تمہیں ان سے منہ موڑنے پر مجبور کر دیا۔
- لِيَبْتَلِيَكُمْ: تاکہ تمہیں آزمائے۔
تفسیر:
یہ آیت غزوۂ احد کے موقع پر نازل ہوئی، جب مسلمانوں کو ابتدائی کامیابی کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور تمہیں فتح عطا کی، جب تم نے اس کے حکم سے دشمنوں کو قتل کیا اور ان پر غالب تھے۔ لیکن پھر وہ وقت آیا جب تم نے ہمت ہار دی، آپس میں اختلاف کیا اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کی نافرمانی کی۔
یہ نافرمانی اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے پہاڑی پر تیر اندازوں کو متعین کیا تھا اور انہیں سختی سے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں، چاہے کچھ بھی ہو۔ لیکن جب مسلمانوں نے دشمنوں کو پسپا ہوتے دیکھا اور مالِ غنیمت جمع ہوتا دیکھا، تو اکثر تیر اندازوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی، حالانکہ ان کے سردار عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس نافرمانی کی وجہ سے دشمن نے پہاڑی کی طرف سے حملہ کیا اور مسلمانوں کو شکست ہوئی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا (مالِ غنیمت) چاہتے تھے اور کچھ آخرت (ثواب اور رسول کی اطاعت) چاہتے تھے۔ یہ امتحان تھا کہ کون اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور کون دنیا کی لالچ میں ڈگمگا جاتا ہے۔ پھر اللہ نے تمہیں دشمنوں سے پھیر دیا تاکہ تمہاری آزمائش ہو، لیکن اس کے باوجود اس نے تمہیں معاف کر دیا اور تمہیں ہلاک نہیں کیا۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ مومنوں پر کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
- اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اس کی مدد کے لیے صبر، اطاعت اور استقامت ضروری ہے۔
- نافرمانی اور آپس کے اختلافات نصرتِ الٰہی کے حصول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
- دنیا کی محبت اور آخرت کی بے رغبتی انسان کو گمراہ کر سکتی ہے، اس لیے ہمیں ہمیشہ آخرت کو ترجیح دینی چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ خطاؤں کے باوجود معاف کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے۔
- آزمائشیں اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں تاکہ ہمارا ایمان مضبوط ہو اور ہم اپنے رب کے قریب ہوں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے حکم کی اطاعت کریں، آپس میں اتحاد رکھیں، دنیا کی لالچ میں مبتلا نہ ہوں اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اللہ کا فضل عظیم ہے، وہ اپنے مومن بندوں کو معاف کرتا ہے اور انہیں کامیابی عطا کرتا ہے۔
📜 آیت 150-154 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 152
سورہ آل عمران آیت 152 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس…سورہ آیت 152/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 150–154. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








