آل عمران · 34/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
ذُرِّيَّةَۢ بَعۡضُهَا مِنۢ بَعۡضٍۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ  ۝٣٤
Zurriyyatam ba`duhaa mim ba`d; wallaahu Samee`un `Aleem
📖 اردو ترجمہ
ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

ذُرِّیَّةً بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

معانی الفاظ:

  • ذُرِّیَّةً: اولاد اور نسل۔ یہ لفظ "ذرأ" سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے پیدا کرنا۔
  • بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ: ان میں سے بعض بعض سے ہیں، یعنی ایک دوسرے کی نسل سے ہیں۔
  • سَمِيعٌ عَلِيمٌ: سب کچھ سننے والا اور جاننے والا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم، نوح، ابراہیم اور عمران علیہم السلام کے خاندانوں کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ یہ تمام انبیاء اور برگزیدہ ہستیاں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں۔ یہ سلسلۂ نبوت اور ولایت ایک ایسی پاکیزہ زنجیر ہے جس کے تمام کڑے توحید، اخلاص اور نیکی میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے سے پہلے والے کی روش کو اپنایا اور اپنے بعد والوں کے لیے نمونہ بن گیا۔

یہ ذرّیات محض نسبی تعلق سے نہیں، بلکہ دینی اور روحانی وراثت سے ایک دوسرے سے وابستہ تھیں۔ وہ ایمان، تقویٰ، صبر اور اللہ کی راہ میں قربانی جیسی صفات میں ایک دوسرے کے وارث تھے۔ یہ سلسلۂ ہدایت اس وقت تک جاری رہا جب تک اللہ نے چاہا، اور ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے ایسے برگزیدہ لوگوں کو چنا جو اس پاکیزہ روایت کو آگے بڑھاتے رہے۔

اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ سمیع اور علیم ہے، یعنی وہ اپنے بندوں کے تمام اقوال سنتا ہے اور ان کے تمام اعمال جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں خلوص رکھتا ہے اور کون نہیں، چنانچہ وہ اپنی رحمت اور نبوت کے لیے انہیں چنتا ہے جو حقیقی طور پر اس کے مستحق ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نیکی اور تقویٰ ایک ایسی دولت ہے جو وراثت میں ملتی ہے، لیکن یہ محض نسب سے نہیں بلکہ عمل اور اخلاص سے حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح ان پاکیزہ خاندانوں نے ایک دوسرے کی نیک روش کو اپنایا، ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بچوں کو نیکی کی وراثت دیں اور انہیں اچھے اخلاق اور دین پر چلنے کی تلقین کریں۔ اللہ تعالیٰ ہماری ہر بات سنتا ہے اور ہر عمل جانتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اس کے حکم کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم بھی ان برگزیدہ لوگوں کی صف میں شامل ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی محروم نہیں رکھتا، اور جو لوگ اس کی راہ میں خلوص سے چلتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 32-36 — آل عمران

32قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡكَٰفِرِينَ 
کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا
33۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحًا وَءَالَ إِبۡرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمۡرَٰنَ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ 
خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا
34ذُرِّيَّةَۢ بَعۡضُهَا مِنۢ بَعۡضٍۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 
ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
35إِذۡ قَالَتِ ٱمۡرَأَتُ عِمۡرَٰنَ رَبِّ إِنِّي نَذَرۡتُ لَكَ مَا فِي بَطۡنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ 
(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
36فَلَمَّا وَضَعَتۡهَا قَالَتۡ رَبِّ إِنِّي وَضَعۡتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا وَضَعَتۡ وَلَيۡسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلۡأُنثَىٰۖ وَإِنِّي سَمَّيۡتُهَا مَرۡيَمَ وَإِنِّيٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ 
جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
34آیت

ترجمہ — آل عمران 34

سورہ آیت 34/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں