ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اصطفیٰ: چن لیا، منتخب فرمایا، فضیلت دی۔
- آل: اہل، خاندان، اولاد اور قریبی رشتہ دار۔
- عالمین: تمام جہانوں کے لوگ، اپنے اپنے زمانے کی مخلوقات۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا ایک عظیم اعلان فرما رہے ہیں کہ اُس نے کچھ برگزیدہ ہستیوں کو تمام جہانوں سے چن کر ممتاز فرمایا۔ یہ انتخاب اللہ کا اپنا انتخاب ہے، جو اُس کی حکمت اور مشیت پر مبنی ہے۔
سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر ہے، جو تمام انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ نے انہیں اپنے ہاتھوں سے بنایا، ان میں اپنی روح پھونکی، فرشتوں کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا اور انہیں علمِ اسماء عطا فرمایا۔ یہ وہ عظمت ہے جو کسی اور مخلوق کو حاصل نہیں ہوئی۔
پھر حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر ہے، جو زمین والوں کی طرف پہلے رسول بھیجے گئے۔ انہوں نے نو سو پچاس سال تک اپنی قوم کو دعوت دی، صبر و استقامت کی انتہائی مثال قائم کی، اور طوفانِ عظیم کے بعد انہیں اور ان کے ساتھیوں کو نجات دے کر اللہ نے انہیں تمام اہلِ زمین پر فضیلت عطا فرمائی۔
پھر آلِ ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے، یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی ذریت میں سے برگزیدہ انبیاء۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے خلیل اللہ بنایا، انہیں بتوں کو توڑنے، آگ میں ڈالے جانے اور پھر آگ کو ٹھنڈا کرنے جیسے معجزات عطا فرمائے۔ ان کی ذریت میں حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم انبیاء آئے، جن کے ذریعے نبوت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہا۔
اور پھر آلِ عمران کا ذکر ہے، جس سے مراد حضرت عمران علیہ السلام کا خاندان ہے، جن کی اولاد میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام جیسے عظیم رسول پیدا ہوئے، اور حضرت مریم علیہا السلام بھی اسی خاندان سے تھیں، جن کے بطن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
یہ سب ہستیاں اللہ کے برگزیدہ بندے تھے، جنہیں اللہ نے اپنے زمانے کی تمام مخلوقات پر فضیلت دی۔ یہ فضیلت ان کے ایمان، تقویٰ، صبر، استقامت اور اللہ کی راہ میں قربانیوں کی بدولت تھی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے، اور یہ عزت محض دنیاوی وجاہت سے نہیں بلکہ ایمان اور عملِ صالح سے ملتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے، ہمیں ان کی سیرت سے راہنمائی لینی چاہیے۔ تیسرے یہ کہ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے، وہ اپنے بندوں کو اٹھا کر بلند مقام عطا کرتا ہے، بشرطیکہ وہ اس کی راہ میں خلوص اور محبت سے چلیں۔
آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں بھی عزت دے اور بلند مقام عطا کرے، تو ہمیں ان برگزیدہ ہستیوں کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا، اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہوگا، اپنے اعمال کو درست کرنا ہوگا اور اللہ کی رضا کو اپنا مقصدِ زندگی بنانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان برگزیدہ ہستیوں کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 31-35 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 33
سورہ آل عمران آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان…سورہ آیت 33/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








