آل عمران · 35/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۝٣٥
Iz qaalatim ra atu `Imraana Rabbi innee nazartu laka maa fee batnee muharraran fataqabbal minnee innaka Antas Samee`ul `Aleem
📖 اردو ترجمہ
(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَذَرْتُ: میں نے اپنے اوپر لازم کر لیا، نذر مان لی۔
  • مُحَرَّرًا: آزاد، خالص، صرف اللہ کی عبادت اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف۔

تفسیر آیت:

اے نبی کریم ﷺ! آپ اس وقت کا واقعہ یاد کریں جب عمران کی بیوی (حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ) نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا: "اے میرے رب! میں نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو تیری راہ میں نذر کر دیا ہے، یعنی اسے ہر دنیاوی مشغولیت سے آزاد کر کے صرف تیری عبادت اور تیرے گھر (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ہے۔" انہوں نے یہ نذر اس لیے مانی تھی کہ ان کا بچہ مکمل طور پر اللہ کا مطیع اور اس کی عبادت میں مشغول رہے، کسی دنیاوی کام میں نہ الجھے۔

پھر انہوں نے عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعا کی: "اے میرے رب! تو میری اس نذر کو قبول فرما، کیونکہ تو ہی سب کچھ سننے والا ہے اور میرے دل کی نیت کو خوب جاننے والا ہے۔" ان کا یہ اندازِ دعا بڑا ہی خوبصورت ہے کہ انہوں نے اپنے عمل کو اللہ کی رحمت اور قبولیت سے منسلک کیا، نہ کہ اپنی طاقت پر بھروسہ کیا۔

یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی نیتوں کو دیکھتا ہے اور خلوصِ نیت کے ساتھ کی گئی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ نے اپنے بچے کو اللہ کی راہ میں وقف کر کے ایک عظیم مثال قائم کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے انہیں ایک برگزیدہ بیٹی عطا فرمائی، جو دنیا کی تمام عورتوں سے افضل قرار پائی۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت اللہ کی راہ میں کرنی چاہیے، انہیں نیکی، تقویٰ اور عبادت کی تلقین کرنی چاہیے۔ نیز جب ہم کوئی نیک کام کریں تو اللہ سے اس کی قبولیت کی دعا کریں، کیونکہ قبولیت کا دارومدار اللہ کی رحمت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور ان کے دلوں کے راز جانتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تمام معاملات میں اسی پر بھروسہ کریں اور اسی سے مدد مانگیں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی نذروں اور قربانیوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا، بلکہ انہیں اس سے بہتر اجر عطا فرماتا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ نے جو نذر مانی تھی، اللہ نے اسے اس طرح قبول کیا کہ ان کی بیٹی مریم علیہا السلام کو دنیا کی تمام عورتوں پر فضیلت دی گئی اور ان کے ذریعے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی کو دنیا میں بھیجا گیا۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کی خلوص نیت سے کی گئی چھوٹی سی کوشش کو بھی بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔



📜 آیت 33-37 — آل عمران

33۞ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ
خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا
34ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِن بَعْضٍ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
35إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
36فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَىٰ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں
37فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
35آیت

ترجمہ — آل عمران 35

سورہ آل عمران آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی…

سورہ آیت 35/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں