Iz jaaa`ookum min fawqikum wa min asfala minkum wa iz zaaghatil absaaru wa balaghatil quloobul hanaajira wa tazunnoona billaahiz zunoonaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جب وہ تمہارے اُوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنگاه كه از سمت بالا و از سمت پايين بر شما تاختند، چشمها خيره شد و دلها به گلوگاه رسيده بود و به خدا گمانهاى گوناگون مىبرديد.
جب وہ تمہارے اُوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
زاغَتِ الْأَبْصَارُ: نگاہیں خوف اور حیرت سے پھر گئیں، ٹکٹکی بندھ گئی۔
بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ: شدید خوف اور دہشت کی وجہ سے دل گلوں تک آ گئے۔
الظُّنُونَا: مختلف گمان اور خیالات (یہاں نیک اور بد دونوں گمان مراد ہیں)۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اس وقت کو یاد کرو جب غزوۂ احزاب کے موقع پر دشمن تمہاری طرف چڑھ آئے تھے۔ وہ تمہارے اوپر سے یعنی مشرق کی طرف سے وادی کے بالائی حصے سے (بنو غطفان) اور تمہارے نیچے سے یعنی مغرب کی طرف سے وادی کے نشیبی حصے سے (قریش) آ نکلے تھے۔ اس طرح تمہیں دونوں طرف سے گھیر لیا گیا تھا۔ اس ہولناک منظر میں خوف اور حیرت کے مارے لوگوں کی نگاہیں پتھرا گئی تھیں، اور شدتِ دہشت سے دل سینے سے نکل کر حلق تک آ گئے تھے۔ اس وقت لوگوں کے دلوں میں اللہ کے بارے میں مختلف گمان پیدا ہو گئے تھے۔ سچے مومنین کو یقین تھا کہ اللہ اپنے دین کی مدد ضرور فرمائے گا اور اپنے نبی کو کامیاب کرے گا، جیسا کہ اس نے ہمیشہ کیا ہے۔ لیکن منافقین اور کمزور ایمان والوں کے دلوں میں وسوسے پیدا ہو گئے تھے، انہوں نے گمان کیا کہ اب مسلمانوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
یہ وہ مشکل ترین گھڑی تھی جب ایمان اور صبر کی آزمائش ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر اس لیے کیا تاکہ ہم اس عظیم نعمت کو یاد کریں کہ اس نے اپنے مومن بندوں کو اس مصیبت سے نجات دی اور ان کے دلوں کو مضبوط کیا۔ اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ مصیبت کے وقت اللہ پر اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتا ہے جیسا وہ اس کے بارے میں گمان رکھتے ہیں۔ اگر ہم اللہ سے بھلائی کی امید رکھیں گے تو وہ ہمیں بھلائی عطا فرمائے گا، اور اگر ہم اس سے مایوس ہوں گے تو یہ ہماری کمزوری ہوگی۔ یاد رکھیں، اللہ کی مدد صبر اور تقویٰ کے ساتھ آتی ہے، اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔
مومنو خدا کی اُس مہربانی کو یاد کرو جو (اُس نے) تم پر (اُس وقت کی) جب فوجیں تم پر (حملہ کرنے کو) آئیں۔ تو ہم نے اُن پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل کئے) جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا اُن کو دیکھ رہا ہے
جب وہ تمہارے اُوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔