ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الزَّاجِرَاتِ: پھٹکارنے والی، روکنے والی، یعنی وہ فرشتے جو بادلوں کو ہانکتے اور روکتے ہیں۔
- زَجْرًا: سختی سے ہانکنے، ڈانٹنے اور روکنے کے معنی میں۔
تفسیرِ آیت:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی مخلوق کی قسم کھائی ہے، اور وہ فرشتوں کا ذکر فرما رہے ہیں جو بادلوں کو حکمِ الٰہی سے ہانکتے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے حکم سے بادلوں کو ادھر ادھر لے جاتے ہیں، جہاں اللہ چاہتا ہے بارش برساتے ہیں، اور جہاں چاہتا ہے روک دیتے ہیں۔ یہ زجر (ہانکنے) کا عمل اللہ کے فرمان کے تحت مکمل نظامِ کائنات کا حصہ ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی اس صفت کی قسم کھا کر اپنی وحدانیت اور توحید کی دلیل دی ہے کہ جس طرح یہ فرشتے بادلوں کو ہانکنے اور روکنے پر قادر ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور جب یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، تو پھر عبادت بھی صرف اسی کی ہونی چاہیے، نہ کہ کسی اور کی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ وہ بادلوں کو جس طرح چاہتا ہے پھیرتا ہے، اور یہ سب کچھ اس کی رحمت اور حکمت سے ہوتا ہے۔ جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں کہ بادل کس طرح سفر کرتے ہیں، کبھی ادھر جاتے ہیں کبھی ادھر، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب اللہ کے فرمان سے ہو رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے اللہ کی عظمت اور قدرت کی نشانی ہے۔
اس لیے اے بندو! اپنے رب کی عبادت کرو، اس کی اطاعت کرو، اور اس کی رحمت کے طلب گار بنو۔ وہی ہے جو بارش برساتا ہے، رزق دیتا ہے، اور ہر مشکل کو آسان کرتا ہے۔ اللہ کی قسم کھانا جائز ہے، لیکن غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے، اس لیے ہمیشہ اللہ ہی کی قسم کھایا کرو اور اپنے معاملات میں اسی پر بھروسہ رکھو۔
📜 آیت 1-4 — صافات
ترجمہ — صافات 2
سورہ صافات آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کرسورہ آیت 2/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








