زمر · 22/75
ترجمہ تلفظ — زمر
أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدۡرَهُۥ لِلۡإِسۡلَٰمِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِۦۚ فَوَيۡلٌ لِّلۡقَٰسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ  ۝٢٢
Afaman sharahal laahu sadrahoo lil Islaami fahuwa `alaa noorim mir Rabbih; fa wailul lilqaasiyati quloobuhum min zikril laah; ulaaa`ika fee dalaalim mubeen
📖 اردو ترجمہ
بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • شَرَحَ: کھولنا، کشادہ کرنا، وسعت دینا۔
  • صَدْرَهُ: اس کا سینہ۔
  • لِلْإِسْلَامِ: اسلام قبول کرنے کے لیے۔
  • نُورٍ: روشنی، ہدایت، بصیرت۔
  • قَاسِيَةٍ: سخت، جو نرم نہ ہو۔
  • ضَلَالٍ مُبِينٍ: واضح گمراہی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں دو قسم کے لوگوں کا موازنہ فرما رہے ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جس کے سینے کو اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا، یعنی اس کے دل میں ایمان کی روشنی ڈال دی، اور وہ اسلام کو قبول کرنے میں آسانی محسوس کرتا ہے۔ ایسا شخص اپنے رب کی طرف سے ایک واضح نور اور ہدایت پر ہوتا ہے، اس کا دل مطمئن، سینہ کشادہ اور راستہ روشن ہوتا ہے۔ وہ حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہے، اور اس کے اعمال میں اللہ کی رضا کی جھلک نظر آتی ہے۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے دل سخت ہو گئے ہیں اور وہ اللہ کے ذکر سے بالکل متاثر نہیں ہوتے۔ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے یا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، تو ان کے دل اور زیادہ سخت ہو جاتے ہیں، نہ ان میں نرمی آتی ہے اور نہ ہی وہ ہدایت قبول کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے قرآن میں وعید سنائی گئی ہے کہ ان کے لیے ویل (ہلاکت اور تباہی) ہے۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں، کیونکہ انہوں نے حق کو چھوڑ کر باطل کو اپنا لیا اور اللہ کے ذکر سے منہ موڑ لیا۔

یہ دونوں قسم کے لوگ کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ جس طرح اندھا اور بینا برابر نہیں، اسی طرح وہ شخص جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل گیا اور وہ نورِ ہدایت پر چل رہا ہے، اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا جس کا دل سخت ہے اور وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے دلوں کو نرم کریں اور اللہ کے ذکر سے روشنی حاصل کریں۔ جب دل اللہ کے ذکر سے نرم ہو جاتا ہے، تو انسان کو سکون ملتا ہے، اس کا سینہ کشادہ ہو جاتا ہے، اور وہ زندگی کی مشکلات کو آسانی سے برداشت کر لیتا ہے۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے، ہمارے دلوں سے سختی دور کرے، اور ہمیں اپنے ذکر کی لذت عطا فرمائے۔ یاد رکھیں، جو لوگ اللہ کے ذکر سے منہ موڑتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں نقصان میں ہیں، چاہے دنیا میں انہیں کتنی ہی خوشحالی حاصل ہو۔ اللہ ہمیں ہدایت پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — زمر

20لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ لَهُمۡ غُرَفٌ مِّن فَوۡقِهَا غُرَفٌ مَّبۡنِيَّةٌ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ ٱلۡمِيعَادَ 
لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں۔ (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کا وعدہ ہے۔ خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا
21أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهُۥ يَنَٰبِيعَ فِي ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ يُخۡرِجُ بِهِۦ زَرۡعًا مُّخۡتَلِفًا أَلۡوَٰنُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ يَجۡعَلُهُۥ حُطَٰمًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكۡرَىٰ لِأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ 
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے
22أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدۡرَهُۥ لِلۡإِسۡلَٰمِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِۦۚ فَوَيۡلٌ لِّلۡقَٰسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ 
بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں
23ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحۡسَنَ ٱلۡحَدِيثِ كِتَٰبًا مُّتَشَٰبِهًا مَّثَانِيَ تَقۡشَعِرُّ مِنۡهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمۡ وَقُلُوبُهُمۡ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهۡدِي بِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٍ 
خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔ یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
24أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجۡهِهِۦ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَقِيلَ لِلظَّٰلِمِينَ ذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡسِبُونَ 
بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کے مزے چکھو
زمرقرآن فہرست
75آیت
مکیRevelation
22آیت

ترجمہ — زمر 22

سورہ آیت 22/75 — زمر الزمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زمر سنیں, زمر ترجمہ, زمر mp3, زمر pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں