Alam tara annal laaha anzala minas samaaa`i maaa`an fasalakahoo yanaabee`a fil ardi summa yukhriju bihee zar`am mukhtalifan alwaanuhoo summa yaheeju fatarahu musfarran summa yaj`aluhoo hutaamaa; inna fee zaalika lazikraa li ulil albaab
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا نديدهاى كه خدا از آسمان باران فرستاد و آن را چون چشمهسارهايى در زمين روان گردانيد، آنگاه به آن كشتههاى رنگارنگ برويانيد، سپس همه خشك مىشوند و مىبينى كه زرد شدهاند، آنگاه خردشان مىسازد؟ هر آينه خردمندان را در آن اندرزى است.
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَسَلَکَهُ: اسے داخل کیا، چلایا
یَنَابِیعَ: چشمے، چشموں کی صورت میں
یَهِیجُ: خشک ہو جاتا ہے، مرجھا جاتا ہے
حُطَامًا: ریزہ ریزہ، بھوسہ، چورا چورا
ذِکْرَىٰ: نصیحت، یاد دہانی
أُولِی الْأَلْبَابِ: عقل والے، سمجھ دار لوگ
تفسیر:
اے نبی! کیا تم نے غور سے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اسے زمین کے اندر اتار کر چشموں، ندیوں اور کنوؤں کی صورت میں جاری کر دیا؟ یہ وہی پانی ہے جو زمین کی گہرائیوں میں محفوظ ہو کر پھر باہر نکلتا ہے اور سینکڑوں میل دور تک پہنچتا ہے۔ پھر اللہ اسی پانی کے ذریعے سے کھیتیوں کو اگاتا ہے جن میں مختلف قسم کی فصلیں اور پودے ہوتے ہیں، جن کے رنگ، شکلیں، ذائقے اور خوشبوئیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ کبھی وہ سرسبز و شاداب نظر آتی ہیں، کبھی پھولوں سے لدی ہوتی ہیں، مگر پھر وہ وقت آتا ہے جب وہی کھیتی خشک ہونے لگتی ہے، اس کا رنگ سبز سے زرد ہو جاتا ہے، اور آخر کار وہ بھوسہ بن کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔
یہ منظر محض ایک قدرتی عمل نہیں، بلکہ اس میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ جس طرح بارش کے بعد زمین سرسبز ہوتی ہے اور پھر سوکھ جاتی ہے، اسی طرح یہ دنیا بھی ہے — کبھی جوانی اور تازگی، کبھی بڑھاپا اور کمزوری، اور آخر کار موت اور فنا۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ انسان غور کرے اور سمجھے کہ جس اللہ نے پانی کو زمین میں جاری کیا اور پھر اس سے مختلف فصلیں اگائیں، وہی اللہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
اس آیت میں اہلِ عقل کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔ عقل والا وہی ہے جو ان نشانیوں سے سبق لے، اپنے دل کو غفلت سے بیدار کرے اور سمجھ لے کہ یہ دنیا عارضی ہے، اس کی رنگینی اور بہار کبھی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ جس طرح کھیتی کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح دل کو ایمان اور یادِ الٰہی کی ضرورت ہے۔ جس دل میں ایمان کی آب و تاب نہ ہو، وہ دل آخر کار خشک اور بے جان ہو جاتا ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! جب آپ کسی سرسبز کھیت کو دیکھیں تو یاد رکھیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے، اور جب وہی کھیت سوکھ جائے تو یاد رکھیں کہ یہ دنیا کی حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نشانیوں سے سبق لینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور رکھے۔ آمین۔
لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں۔ (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کا وعدہ ہے۔ خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے
بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں
خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔ یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔