Innal lazeena tawaffaa humul malaaa`ikatu zaalimeee anfusihim qaaloo feema kuntum qaaloo kunnaa mustad`afeena fil-ard; qaalooo alam takun ardul laahi waasi`atan fatuhaajiroo feehaa; fa ulaaa`ika maawaahum Jahannamu wa saaa`at maseeraa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كسانى هستند كه فرشتگان جانشان را مىستانند در حالى كه بر خويشتن ستم كرده بودند. از آنها مىپرسند: در چه كارى بوديد؟ گويند: ما در روى زمين مردمى بوديم زبون گشته. فرشتگان گويند: آيا زمين خدا پهناور نبود كه در آن مهاجرت كنيد؟ مكان اينان جهنم است و سرانجامشان بد.
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
آیت نمبر 97 کی تفسیر
پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:
تَوَفَّاهُمُ: ان کی روحیں قبض کر لیں
ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ: اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے (یعنی ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے)
مُسْتَضْعَفِينَ: کمزور اور بے بس سمجھے جانے والے
مَأْوَاهُمْ: ان کا ٹھکانہ
مَصِيرًا: انجام اور بازگشت
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں ایمان لائے تھے لیکن جب ہجرت فرض ہوئی تو انہوں نے ہجرت نہ کی اور کفار کے ساتھ مل کر بدر کے میدان میں مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں (یعنی ہجرت ترک کر کے کفر کے ماحول میں رہ کر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالتے ہیں)، تو فرشتے ان سے سرزنش کے انداز میں پوچھتے ہیں: "تم کس حال میں تھے؟ تمہارا دین کہاں گیا؟ تم نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کیا کیا؟"
اس پر وہ عذر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ہم زمین میں کمزور اور بے بس تھے، ہم پر ظلم کیا جاتا تھا، ہم کچھ نہ کر سکے۔" لیکن فرشتے ان کا یہ عذر قبول نہیں کرتے اور جواب دیتے ہیں: "کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی؟ کیا تمہیں کوئی اور سرزمین نہیں مل سکتی تھی جہاں تم اپنے دین پر آزادی سے عمل کر سکتے؟ تم ہجرت کر کے اپنے ایمان کو بچا سکتے تھے، لیکن تم نے سستی اور دنیا کی محبت کو اپنے ایمان پر ترجیح دی۔"
پھر اللہ تعالیٰ ان کا انجام بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور وہ بہت برا انجام ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ایمان صرف زبان سے کہنے کا نام نہیں، بلکہ عملی قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے۔ جب ایمان خطرے میں ہو تو اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا، اپنا گھر بار چھوڑنا، اور مشکلات برداشت کرنا ضروری ہے۔ آج بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ جہاں ان کے دین کو خطرہ ہو، وہاں سے نکل کر ایسی جگہ جائیں جہاں وہ اپنے دین پر عمل کر سکیں۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے، ہمیں صرف اللہ پر بھروسہ رکھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔ جو لوگ ایمان کی خاطر قربانی دیتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کو سب سے اہم سمجھیں اور دنیا کی کوئی چیز ہمیں اپنے دین سے دور نہ کر سکے۔
جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔