نساء · 97/176
ترجمہ تلفظ — نساء
إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ۝٩٧
Innal lazeena tawaffaa humul malaaa`ikatu zaalimeee anfusihim qaaloo feema kuntum qaaloo kunnaa mustad`afeena fil-ard; qaalooo alam takun ardul laahi waasi`atan fatuhaajiroo feehaa; fa ulaaa`ika maawaahum Jahannamu wa saaa`at maseeraa
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت نمبر 97 کی تفسیر

پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:

  • تَوَفَّاهُمُ: ان کی روحیں قبض کر لیں
  • ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ: اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے (یعنی ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے)
  • مُسْتَضْعَفِينَ: کمزور اور بے بس سمجھے جانے والے
  • مَأْوَاهُمْ: ان کا ٹھکانہ
  • مَصِيرًا: انجام اور بازگشت

تفسیر:

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں ایمان لائے تھے لیکن جب ہجرت فرض ہوئی تو انہوں نے ہجرت نہ کی اور کفار کے ساتھ مل کر بدر کے میدان میں مسلمانوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں (یعنی ہجرت ترک کر کے کفر کے ماحول میں رہ کر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالتے ہیں)، تو فرشتے ان سے سرزنش کے انداز میں پوچھتے ہیں: "تم کس حال میں تھے؟ تمہارا دین کہاں گیا؟ تم نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کیا کیا؟"

اس پر وہ عذر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ہم زمین میں کمزور اور بے بس تھے، ہم پر ظلم کیا جاتا تھا، ہم کچھ نہ کر سکے۔" لیکن فرشتے ان کا یہ عذر قبول نہیں کرتے اور جواب دیتے ہیں: "کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی؟ کیا تمہیں کوئی اور سرزمین نہیں مل سکتی تھی جہاں تم اپنے دین پر آزادی سے عمل کر سکتے؟ تم ہجرت کر کے اپنے ایمان کو بچا سکتے تھے، لیکن تم نے سستی اور دنیا کی محبت کو اپنے ایمان پر ترجیح دی۔"

پھر اللہ تعالیٰ ان کا انجام بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور وہ بہت برا انجام ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ایمان صرف زبان سے کہنے کا نام نہیں، بلکہ عملی قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے۔ جب ایمان خطرے میں ہو تو اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا، اپنا گھر بار چھوڑنا، اور مشکلات برداشت کرنا ضروری ہے۔ آج بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ جہاں ان کے دین کو خطرہ ہو، وہاں سے نکل کر ایسی جگہ جائیں جہاں وہ اپنے دین پر عمل کر سکیں۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے، ہمیں صرف اللہ پر بھروسہ رکھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔ جو لوگ ایمان کی خاطر قربانی دیتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کو سب سے اہم سمجھیں اور دنیا کی کوئی چیز ہمیں اپنے دین سے دور نہ کر سکے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 95-99 — نساء

95لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا
جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے
96دَرَجَاتٍ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے
97إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
98إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا
ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں
99فَأُولَٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا
قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
97آیت

ترجمہ — نساء 97

سورہ نساء آیت 97 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب…

سورہ آیت 97/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 95–99. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں