(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
دَرَجَاتٍ: بلند مرتبے، اونچے درجے، جو ایک دوسرے سے بلند تر ہوں۔
مِنْهُ: اس کی طرف سے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت اور فضل سے۔
مَغْفِرَةً: گناہوں کی معافی اور پردہ پوشی۔
رَحْمَةً: وہ وسیع رحمت جو مومن کو ہر قسم کی پریشانیوں سے نجات دلاتی ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے جو عظیم اجر اور انعامات کا ذکر فرمایا ہے، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ ثواب صرف ایک ہی درجہ نہیں، بلکہ کئی بلند درجے ہیں، جو ایک دوسرے سے اوپر ہیں۔ یہ درجات اللہ کی طرف سے ہیں، یعنی یہ اس کا خاص فضل اور احسان ہے، جو وہ اپنے مجاہد بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ ساتھ ہی ان کے لیے مغفرت بھی ہے، یعنی ان کی تمام کوتاہیاں اور لغزشیں معاف کر دی جائیں گی، اور رحمت بھی ہے، جو انہیں ہر طرف سے گھیر لے گی اور جنت کی نعمتوں میں ان کا داخلہ آسان کرے گی۔
یہ درجات و مراتب اس قدر بلند ہیں کہ ان کا اندازہ کرنا انسان کے بس میں نہیں، کیونکہ یہ اللہ کی ذات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ غفور ہے، یعنی اپنے بندوں کے گناہوں کو بخشنے والا ہے، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں، بشرطیکہ وہ توبہ کریں اور اس کی طرف رجوع کریں۔ اور وہ رحیم ہے، یعنی اپنے اطاعت گزار بندوں پر خاص رحمت فرماتا ہے، ان کی کمزوریوں کو جانتا ہے اور انہیں آسانیاں عطا کرتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں جدوجہد کرنے والوں کے لیے کوئی نقصان نہیں، بلکہ ہر قدم پر ان کے لیے ترقی اور بلندی ہے۔ جو شخص اپنی جان، مال اور وقت اللہ کی راہ میں صرف کرتا ہے، اللہ اسے کبھی محروم نہیں رکھتا۔ بلکہ اسے ایسے درجات عطا فرماتا ہے جو دنیا کی کسی بھی دولت سے بڑھ کر ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کے راستے پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے وہ جہاد ہو، علم حاصل کرنا ہو، نیکی کا حکم دینا ہو، یا برائی سے روکنا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں محنت کرتا ہے، اور اس کا وعدہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔ ہمیں اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ وہ غفور ہے اور اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اور ہمیں اپنے اندر رحمت کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے، تاکہ ہم دوسروں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کریں جیسا اللہ ہمارے ساتھ کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت کے بلند درجات تک پہنچا سکتا ہے۔
مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے
جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔