Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- دَرَجَاتٍ: بلند مرتبے، اونچے درجے، جو ایک دوسرے سے بلند تر ہوں۔
- مِنْهُ: اس کی طرف سے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت اور فضل سے۔
- مَغْفِرَةً: گناہوں کی معافی اور پردہ پوشی۔
- رَحْمَةً: وہ وسیع رحمت جو مومن کو ہر قسم کی پریشانیوں سے نجات دلاتی ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے جو عظیم اجر اور انعامات کا ذکر فرمایا ہے، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ ثواب صرف ایک ہی درجہ نہیں، بلکہ کئی بلند درجے ہیں، جو ایک دوسرے سے اوپر ہیں۔ یہ درجات اللہ کی طرف سے ہیں، یعنی یہ اس کا خاص فضل اور احسان ہے، جو وہ اپنے مجاہد بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ ساتھ ہی ان کے لیے مغفرت بھی ہے، یعنی ان کی تمام کوتاہیاں اور لغزشیں معاف کر دی جائیں گی، اور رحمت بھی ہے، جو انہیں ہر طرف سے گھیر لے گی اور جنت کی نعمتوں میں ان کا داخلہ آسان کرے گی۔
یہ درجات و مراتب اس قدر بلند ہیں کہ ان کا اندازہ کرنا انسان کے بس میں نہیں، کیونکہ یہ اللہ کی ذات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ غفور ہے، یعنی اپنے بندوں کے گناہوں کو بخشنے والا ہے، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں، بشرطیکہ وہ توبہ کریں اور اس کی طرف رجوع کریں۔ اور وہ رحیم ہے، یعنی اپنے اطاعت گزار بندوں پر خاص رحمت فرماتا ہے، ان کی کمزوریوں کو جانتا ہے اور انہیں آسانیاں عطا کرتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں جدوجہد کرنے والوں کے لیے کوئی نقصان نہیں، بلکہ ہر قدم پر ان کے لیے ترقی اور بلندی ہے۔ جو شخص اپنی جان، مال اور وقت اللہ کی راہ میں صرف کرتا ہے، اللہ اسے کبھی محروم نہیں رکھتا۔ بلکہ اسے ایسے درجات عطا فرماتا ہے جو دنیا کی کسی بھی دولت سے بڑھ کر ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کے راستے پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے وہ جہاد ہو، علم حاصل کرنا ہو، نیکی کا حکم دینا ہو، یا برائی سے روکنا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں محنت کرتا ہے، اور اس کا وعدہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔ ہمیں اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ وہ غفور ہے اور اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اور ہمیں اپنے اندر رحمت کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے، تاکہ ہم دوسروں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کریں جیسا اللہ ہمارے ساتھ کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت کے بلند درجات تک پہنچا سکتا ہے۔
📜 آیت 94-98 — سورہ نساء
ترجمہ — نساء 96
سورہ نساء آیت 96 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں…سورہ آیت 96/176 — سورہ نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ نساء سنیں, سورہ نساء ترجمہ, سورہ نساء mp3, سورہ نساء pdf. آیت 94–98. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


