ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- السَّقْفِ: چھت، اوپر کی چھت۔
- الْمَرْفُوعِ: بلند کیا ہوا، اونچا کیا گیا۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے "بلند چھت" کی قسم کھائی ہے، جس سے مراد آسمانِ دنیا ہے۔ یہ آسمان اس کائنات کی عظیم چھت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی ستون کے بلند فرمایا ہے۔ یہ وہی آسمان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے بنایا، سجایا اور اسے مضبوط بنیادوں پر قائم رکھا ہے۔
یہ آسمانِ دنیا دراصل ایک عظیم نشانی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور رحمت کا بین ثبوت ہے۔ اس کی بلندی، اس کی وسعت، اس کی خوبصورتی اور اس میں موجود ستارے، سیارے، سورج اور چاند سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ جب انسان آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو اسے اللہ کی بے پایاں قدرت کا احساس ہوتا ہے۔
یہ قسم اس لیے کھائی گئی ہے تاکہ انسان غور و فکر کرے کہ جس ذات نے اتنی عظیم چھت بنائی ہے، وہ یقیناً قیامت کے دن سب کو زندہ کر کے حساب لینے پر قادر ہے۔ جس طرح آسمان کو بلند کرنا اس کی قدرت کا کمال ہے، اسی طرح مردوں کو زندہ کرنا بھی اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہر صبح و شام جب ہم آسمان کی طرف دیکھیں تو اپنے رب کی عظمت کو یاد کریں اور اس کی نعمتوں پر شکر ادا کریں۔ یہ آسمان جو ہمارے اوپر چھت کی مانند ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ اگر یہ چھت نہ ہوتی تو سورج کی تپش، شہابِ ثاقب اور خلائی آفات ہم تک پہنچ کر ہمیں تباہ کر دیتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے محفوظ چھت بنایا ہے جیسا کہ قرآن میں فرمایا: "اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا" (الانبیاء: 32)۔
یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے رب کی نعمتوں پر غور کریں، اس کی عبادت کریں اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزاریں۔ جو ذات اس عظیم کائنات کی خالق ہے، وہی ہمارا رب اور معبود ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ آئیے ہم اس عظیم نشانی سے سبق حاصل کریں اور اپنے خالق و مالک کے شکر گزار بندے بنیں۔
📜 آیت 3-7 — طور
ترجمہ — طور 5
سورہ طور آیت 5 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اونچی چھت کیسورہ آیت 5/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 3–7. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








