Wa haazaa Kitaabun anzalnaahu Mubaarakum musaddiqul lazee bainaa yadaihi wa litunzira ummal Quraa wa man hawlahaa; wallazeena yu`minoona bil Aakhirati yu`minoona bihee wa hum`alaa Salaatihim yuhaafizoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اين است كتابى مبارك كه نازل كردهايم، تصديق كننده چيزى است كه پيش از آن نازل شده است. تا با آن مردم اُمّ القُرى و مردم اطرافش را بيم دهى. كسانى كه به روز قيامت ايمان دارند به آن نيز ايمان دارند. اينان مراقب نمازهاى خويشند.
اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
یہ قرآنِ کریم ایک عظیم کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر نازل کیا ہے، یہ بڑی برکتوں والی کتاب ہے۔ یہ اپنے سے پہلے نازل ہونے والی تمام آسمانی کتابوں (تورات، زبور، انجیل) کی تصدیق کرتی ہے۔ اس کتاب کو ہم نے اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ اہلِ مکہ (جو تمام شہروں کی اصل اور مرکز ہے) اور ان کے گرد و نواح میں رہنے والے تمام لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ یہ پیغام صرف مکہ تک محدود نہیں بلکہ مشرق و مغرب کے تمام انسانوں کے لیے ہے۔
جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، وہ اس قرآن پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ آخرت کا یقین انسان کو اس کتاب کی صداقت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی فرض نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، انہیں وقت پر ادا کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں۔
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ قرآن ہمارے لیے رحمت اور برکت کا ذریعہ ہے۔ جو شخص اس پر ایمان لاتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے، اس کی زندگی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتی ہے۔ آئیے ہم سب اس عظیم کتاب کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی آخرت سنواریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی تھی تو تم انہیں کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لئےمحض نصیحت ہے
اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں
اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے
اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔