Wa man azlamu mimmanif taraa `alal laahi kaziban aw qaala oohiya ilaiya wa lam yooha ilaihi shai`un wa man qaala sa unzilu misla maaa anzalal laah; wa law taraaa iziz zaalimoona fee ghamaraatil mawti walmalaaa`ikatu baasitooo aideehim akhrijooo anfusakum; al yawma tujzawna `azaabal hooni bimaa kuntum taqooloona `alal laahi ghairal haqqi wa kuntum `an aayaatihee tastakbiroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كيست ستمكارتر از آن كس كه به خدا دروغ بست يا گفت كه به من وحى شده و حال آنكه به او هيچ چيز وحى نشده بود و آن كس كه گفت: من نيز همانند آياتى كه خدا نازل كرده است، نازل خواهم كرد؟ اگر ببينى آنگاه كه اين ستمكاران در سكرات مرگ گرفتارند و ملائكه بر آنها دست گشودهاند كه: جان خويش بيرون كنيد، امروز شما را به عذابى خواركننده عذاب مىكنند، و اين به كيفر آن است كه درباره خدا به ناحق سخن مىگفتيد و از آيات او سرپيچى مىكرديد.
باسطو أيديهم: اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے (عذاب دینے کے لیے)۔
عذاب الهون: ذلت اور رسوائی کا عذاب۔
تستكبرون: تکبر کرتے تھے، ماننے سے انکار کرتے تھے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں سب سے بڑے ظلم کا ذکر فرما رہے ہیں، اور وہ ہے اللہ پر جھوٹ باندھنا اور اس کی طرف جھوٹی نسبت کرنا۔ کون ہے جو اس سے بڑھ کر ظالم ہو جو اللہ پر جھوٹ گھڑے، یا یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں آئی؟ یہ وہ لوگ ہیں جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں، جیسے مسیلمہ کذاب اور اس جیسے دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت۔ اور ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم بھی اللہ کے نازل کردہ قرآن جیسا کلام نازل کر سکتے ہیں، حالانکہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے والے اور انتہائی ظلم کرنے والے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر تم ان ظالموں کو اس وقت دیکھو جب وہ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں اور فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں، انہیں ڈانٹتے ہوئے کہہ رہے ہوں: "اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس لیے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے" تو تم ایک ہولناک منظر دیکھو گے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنا، جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنا، اور اللہ کے کلام کی تحقیر کرنا سب سے بڑے گناہ ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ کی عدالت ضرور آئے گی، اور ہر ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ملے گا۔ موت کا وقت وہ لمحہ ہے جب سارے پردے اٹھ جاتے ہیں اور حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں اس آیت سے سبق لینا چاہیے کہ ہم کبھی اللہ پر جھوٹ نہ بولیں، کبھی اپنی طرف سے کوئی بات اللہ کی طرف منسوب نہ کریں، اور اللہ کی آیات کو سن کر ان پر ایمان لائیں، تکبر نہ کریں۔ اللہ کا دین سچا ہے، اور اس کی راہ پر چلنے والے کبھی ذلیل نہیں ہوتے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے اور اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے
اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں
اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اس لئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی پوری خبر رکھتے ہیں
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (ان کی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے
اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال ومتاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے
بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔