ترجمہ — Tafsir
یہ منافقین کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس لوٹے تو عزت والا (یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کا گروہ) ذلیل لوگوں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ) کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا۔ حالانکہ عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، اور مومنوں کے لیے ہے، لیکن منافقین یہ حقیقت نہیں جانتے۔
معانی الفاظ:
- الْأَعَزُّ: زیادہ عزت والا، طاقتور
- الْأَذَلُّ: زیادہ ذلیل، کمزور
- الْعِزَّةُ: عزت، طاقت، غلبہ
تفسیر:
یہ آیت منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنی المصطلق سے واپس لوٹ رہے تھے، تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو ہم (جو عزت والے ہیں) ان مہاجرین کو (جو ہماری نظر میں ذلیل ہیں) مدینہ سے نکال دیں گے۔ اس کی یہ جرات اس لیے تھی کہ وہ اپنے قبیلے خزرج میں ایک بڑا آدمی سمجھا جاتا تھا، اور اسے اپنی قومی اور قبائلی حیثیت پر بہت ناز تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس کی اس گستاخانہ بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اصل عزت تو صرف اللہ کی ہے، اس کے رسول کی ہے، اور مومنوں کی ہے۔ یہ عزت کسی شخص کے قبیلے، مال یا دنیاوی مرتبے سے نہیں ہوتی، بلکہ ایمان اور تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے۔ عبداللہ بن ابی اور اس جیسے منافقین اس حقیقت سے ناواقف ہیں، اس لیے وہ اپنی جھوٹی عزت پر فخر کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں واضح فرما دیا کہ اصل عزت کا مالک صرف اللہ ہے، اور وہ اپنے رسول اور مومنوں کو بھی عزت عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو اللہ نے ہمیشہ غالب رکھا، اور عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ذلیل و خوار ہوئے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ عزت کسی کے قبیلے، خاندان، دولت یا دنیاوی مرتبے سے نہیں ملتی۔ اصل عزت تو اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہے۔ جو شخص جتنا اللہ کے قریب ہوتا ہے، وہ اتنا ہی عزت والا ہوتا ہے، چاہے وہ دنیا میں کتنا ہی غریب اور کمزور کیوں نہ ہو۔
آج بھی بہت سے لوگ اپنی قومی، لسانی، یا علاقائی برتری پر فخر کرتے ہیں، لیکن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تمام تر توجہ اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی محبت پر مرکوز کریں، کیونکہ یہی اصل کامیابی اور عزت کا راستہ ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ منافقین کی فکر اور ان کی سوچ دنیاوی اور مادی ہوتی ہے، جبکہ مومن کی نظر ہمیشہ آخرت اور اللہ کی رضا پر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں منافقانہ صفات سے بچائے اور ہمیں سچے مومن بننے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 6-10 — منافقون
ترجمہ — منافقون 8
سورہ آیت 8/11 — منافقون المنافقون (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: منافقون سنیں, منافقون ترجمہ, منافقون mp3, منافقون pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








