اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُمَّةٌ: ایک جماعت، ایک گروہ۔
يَهْدُونَ: راہ دکھاتے ہیں، ہدایت دیتے ہیں۔
بِالْحَقِّ: حق کے ساتھ، سچائی اور انصاف کی بنیاد پر۔
يَعْدِلُونَ: انصاف کرتے ہیں، عدل قائم کرتے ہیں۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم (بنی اسرائیل) میں سے ایک جماعت ایسی بھی تھی جو حق پر قائم رہی اور لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی کرتی رہی۔ یہ لوگ نہ صرف خود سیدھی راہ پر چلتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی حق اور سچائی کی دعوت دیتے تھے۔ ان کی دعوت محض زبانی نہ تھی بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور معاملات میں بھی عدل و انصاف کو ملحوظ رکھتے تھے۔ جب بھی انہیں کوئی فیصلہ کرنا ہوتا یا کسی جھگڑے کو نمٹانا ہوتا تو وہ حق اور انصاف کے مطابق فیصلہ کرتے، کسی پر ظلم نہ کرتے اور نہ ہی کسی کی حق تلفی کرتے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہر قوم میں نیک اور صالح لوگ موجود ہوتے ہیں جو حق پر قائم رہتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی اکثریت اگرچہ گمراہ ہوگئی تھی، لیکن ان میں سے ایک جماعت ایسی بھی تھی جو حق پر ثابت قدم رہی۔ یہ ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ ہمیں بھی اپنی قوم اور معاشرے میں حق اور انصاف کا علمبردار بننا چاہیے، چاہے اکثریت ہم سے مختلف راہ پر ہی کیوں نہ چل رہی ہو۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ دعوت اور رہنمائی صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے بھی ہونی چاہیے۔ جو شخص دوسروں کو حق کی دعوت دیتا ہے، اسے خود بھی عدل و انصاف پر عمل کرنا چاہیے۔ اسی طرح جب ہم کسی معاملے میں فیصلہ کریں تو ہمیں کسی رشتہ داری، دوستی یا دشمنی کی پرواہ کیے بغیر صرف حق اور انصاف کو سامنے رکھنا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں امید بھی دلاتی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل میں نیک لوگ موجود تھے، اسی طرح امت محمدیہ میں بھی ہمیشہ ایسے لوگ موجود رہیں گے جو حق پر قائم رہیں گے اور عدل و انصاف کا پرچم بلند رکھیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں نیک لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں اور اپنے معاشرے میں حق اور انصاف کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں
(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ
اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا
اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔