اعراف · 189/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
۞ هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٍ وَٰحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ إِلَيۡهَاۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيفًا فَمَرَّتۡ بِهِۦۖ فَلَمَّآ أَثۡقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ ءَاتَيۡتَنَا صَٰلِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ  ۝١٨٩
Huwal lazee khalaqakum min nafsinw waahidatinw wa ja`ala minhaa zawjahaa liyas kuna ilaihaa falammaa taghash shaahaa hamalat hamlan khafeefan famarrat bihee falammaaa asqalad da`awal laaha Rabbahumaa la`in aayaitanaa saalihal lanakoo nanna minash shaakireen
📖 اردو ترجمہ
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَفْسٍ وَاحِدَةٍ: ایک ہی جان سے، یعنی حضرت آدم علیہ السلام۔
  • زَوْجَهَا: اس کا جوڑا، یعنی حوا۔
  • لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا: تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے اور اس سے انس پیدا کرے۔
  • تَغَشَّاهَا: اسے اپنے ساتھ ملایا، یعنی ازدواجی تعلق قائم کیا۔
  • حَمْلًا خَفِيفًا: ہلکا حمل، جس کا آغاز نطفہ سے ہوتا ہے۔
  • فَمَرَّتْ بِهِ: وہ اس کے ساتھ چلتی رہی، یعنی اسے اٹھائے اپنے معمولات جاری رکھے۔
  • أَثْقَلَتْ: حمل بھاری ہو گیا، بچہ بڑا ہو گیا۔
  • صَالِحًا: تندرست، صحیح سالم اور مکمل انسان۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت اور حکمت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ اے انسانو! وہی ذات ہے جس نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا، یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے، اور انہیں سے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے عورت کو مرد کے لیے سکون اور راحت کا ذریعہ بنایا، تاکہ مرد اس کے پاس اطمینان پائے اور وہ ایک دوسرے کے لیے باعثِ آرام ہوں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کی حقیقت بیان کی کہ جب میاں بیوی آپس میں ملتے ہیں تو عورت حمل سے ہلکا سا محسوس کرتی ہے، اور وہ اپنے معمولات جاری رکھتی ہے۔ یہ حمل کا ابتدائی دور ہوتا ہے جس میں عورت کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔ لیکن جب حمل بڑھتا ہے اور بچہ بھاری ہو جاتا ہے، تو میاں بیوی دونوں اپنے رب کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! اگر تو ہمیں صحیح سالم اور تندرست اولاد عطا فرمائے تو ہم تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اولاد اللہ کی نعمت ہے، اور والدین کو چاہیے کہ وہ اللہ سے دعا کریں کہ ان کی اولاد صالح اور نیک ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد دہانی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نعمت عطا فرمائے تو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ شکر کرنے والوں پر اللہ اپنی رحمتیں مزید نازل فرماتا ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس قدر محبت اور حکمت سے پیدا کیا۔ اس نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا سکون بنایا، اور ان کی اولاد کو رحمت قرار دیا۔ جب ہم اپنے رب سے دعا کریں تو اس کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور اس کی رحمت کی امید رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر دعا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اپنے خالق کے شکر گزار بندے بنیں، اور اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت سے کوئی چیز دور نہیں، بس ضرورت ہے دل سے دعا کرنے اور اس پر بھروسہ رکھنے کی۔

🎧 سنیں

📜 آیت 187-191 — اعراف

187يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ رَبِّيۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقۡتِهَآ إِلَّا هُوَۚ ثَقُلَتۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا تَأۡتِيكُمۡ إِلَّا بَغۡتَةًۗ يَسۡـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ 
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
188قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي نَفۡعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ وَلَوۡ كُنتُ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ لَٱسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ ٱلۡخَيۡرِ وَمَا مَسَّنِيَ ٱلسُّوٓءُۚ إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوۡمٍ يُؤۡمِنُونَ 
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
189۞ هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٍ وَٰحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ إِلَيۡهَاۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيفًا فَمَرَّتۡ بِهِۦۖ فَلَمَّآ أَثۡقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ ءَاتَيۡتَنَا صَٰلِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ 
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
190فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحًا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَاۚ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشۡرِكُونَ 
جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے
191أَيُشۡرِكُونَ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ 
کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
189آیت

ترجمہ — اعراف 189

سورہ آیت 189/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 187–191. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں