وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اوست كه همه شما را از يك تن بيافريد. و از آن يك تن زنش را نيز بيافريد تا به او آرامش يابد. چون با او درآميخت، به بارى سبك بارور شد و مدتى با آن سر كرد. و چون بار سنگين گرديد، آن دو، اللّه پروردگار خويش را بخواندند كه اگر ما را فرزندى صالح دهى از سپاسگزاران خواهيم بود.
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نَفْسٍ وَاحِدَةٍ: ایک ہی جان سے، یعنی حضرت آدم علیہ السلام۔
زَوْجَهَا: اس کا جوڑا، یعنی حوا۔
لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا: تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے اور اس سے انس پیدا کرے۔
تَغَشَّاهَا: اسے اپنے ساتھ ملایا، یعنی ازدواجی تعلق قائم کیا۔
حَمْلًا خَفِيفًا: ہلکا حمل، جس کا آغاز نطفہ سے ہوتا ہے۔
فَمَرَّتْ بِهِ: وہ اس کے ساتھ چلتی رہی، یعنی اسے اٹھائے اپنے معمولات جاری رکھے۔
أَثْقَلَتْ: حمل بھاری ہو گیا، بچہ بڑا ہو گیا۔
صَالِحًا: تندرست، صحیح سالم اور مکمل انسان۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت اور حکمت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ اے انسانو! وہی ذات ہے جس نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا، یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے، اور انہیں سے ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے عورت کو مرد کے لیے سکون اور راحت کا ذریعہ بنایا، تاکہ مرد اس کے پاس اطمینان پائے اور وہ ایک دوسرے کے لیے باعثِ آرام ہوں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کی حقیقت بیان کی کہ جب میاں بیوی آپس میں ملتے ہیں تو عورت حمل سے ہلکا سا محسوس کرتی ہے، اور وہ اپنے معمولات جاری رکھتی ہے۔ یہ حمل کا ابتدائی دور ہوتا ہے جس میں عورت کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔ لیکن جب حمل بڑھتا ہے اور بچہ بھاری ہو جاتا ہے، تو میاں بیوی دونوں اپنے رب کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! اگر تو ہمیں صحیح سالم اور تندرست اولاد عطا فرمائے تو ہم تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اولاد اللہ کی نعمت ہے، اور والدین کو چاہیے کہ وہ اللہ سے دعا کریں کہ ان کی اولاد صالح اور نیک ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد دہانی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نعمت عطا فرمائے تو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ شکر کرنے والوں پر اللہ اپنی رحمتیں مزید نازل فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس قدر محبت اور حکمت سے پیدا کیا۔ اس نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا سکون بنایا، اور ان کی اولاد کو رحمت قرار دیا۔ جب ہم اپنے رب سے دعا کریں تو اس کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور اس کی رحمت کی امید رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر دعا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اپنے خالق کے شکر گزار بندے بنیں، اور اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت سے کوئی چیز دور نہیں، بس ضرورت ہے دل سے دعا کرنے اور اس پر بھروسہ رکھنے کی۔
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔