ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَمْلِكُ: میں اختیار رکھتا ہوں، قدرت رکھتا ہوں۔
- نَفْعًا: فائدہ، بھلائی۔
- ضَرًّا: نقصان، تکلیف۔
- الْغَيْبَ: پوشیدہ چیزیں، مستقبل کے واقعات۔
- لَاسْتَكْثَرْتُ: میں بہت زیادہ حاصل کر لیتا۔
- نَذِيرٌ: ڈرانے والا، عذاب سے خبردار کرنے والا۔
- بَشِيرٌ: خوشخبری دینے والا۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو آپ سے غیب کی خبریں یا اپنے لیے نفع و نقصان کے دعوے کی توقع رکھتے ہیں: "میں اپنے لیے کسی نفع کا مالک نہیں ہوں اور نہ ہی کسی نقصان کو ٹالنے کی مجھے قدرت ہے، سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔" یعنی سارا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، میں تو صرف اسی کا بندہ اور رسول ہوں۔ اگر مجھے غیب کا علم ہوتا، تو میں ہر اس چیز کا اہتمام کر لیتا جو میرے لیے بھلائی اور فائدے کا ذریعہ بنتی، اور ہر اس مصیبت سے پہلے ہی بچ جاتا جو مجھے پہنچنے والی ہوتی۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کے علم اور اس کی مشیت کے تابع ہے، میرا اپنا کوئی اختیار نہیں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اصل مقام واضح فرما دیں: "میں تو صرف ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔" یعنی میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور اس کی رحمت اور جنت کی خوشخبری سناؤں، یہ دعوت صرف انہیں لوگوں کو نفع دیتی ہے جو ایمان لاتے ہیں اور میرے پیغام کو سچا جانتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی حیثیت کا صحیح ادراک ہونا چاہیے۔ ہم نہ کسی کے نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ ہی غیب کا علم رکھتے ہیں۔ یہ صرف اللہ کی صفات ہیں۔ جب ہم یہ حقیقت جان لیں گے تو ہمارا دل اللہ پر مکمل بھروسہ کرے گا، اور ہم اپنی کمزوری اور عاجزی کو محسوس کرتے ہوئے صرف اللہ سے مدد مانگیں گے۔ یہی توحید کی روح ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ آیت ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عاجزی کا بھی پتہ دیتی ہے۔ آپ نے کبھی اپنے بارے میں کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جو آپ کو اللہ کے مقام پر رکھتا ہو، بلکہ ہمیشہ اپنی بندگی اور رسالت کا اظہار کیا۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں اسی راستے پر چلنا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی دعوت اور اصلاحِ حال کا کام جاری رکھنا چاہیے، چاہے لوگ ہماری بات مانیں یا نہ مانیں۔ ہمارا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کے لیے ہمارا پیغام نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اللہ ہمیں سچے ایمان اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 186-190 — اعراف
ترجمہ — اعراف 188
سورہ اعراف آیت 188 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ…سورہ آیت 188/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 186–190. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








