ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ: یعنی داخل ہو جاؤ اُن جماعتوں کے ساتھ
- قَدْ خَلَتْ: جو گزر چکی ہیں
- لَعَنَتْ: لعنت بھیجی، بددعا کی
- ادَّارَكُوا: ایک دوسرے کو پا لیا، سب جمع ہو گئے
- أُخْرَاهُمْ: ان کے پچھلے لوگ (یعنی پیروکار اور اتباع)
- لِأُولَاهُمْ: ان کے اگلے لوگوں کی وجہ سے (یعنی قائدین اور سرداروں کے سبب)
- ضِعْفًا: دگنا عذاب، دوہرا عذاب
تفسیر:
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُن مشرکین اور کافروں سے جنہوں نے دنیا میں رسولوں کی دعوت کو جھٹلایا اور اپنے بڑوں کی پیروی میں گمراہی اختیار کی، فرمائے گا: "تم بھی اُن جماعتوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہو جاؤ جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں، جنوں اور انسانوں میں سے، سب اپنے اپنے کفر اور شرک کی وجہ سے آگ میں جھونک دی گئیں۔"
پھر جب کوئی جماعت جہنم میں داخل ہوگی تو وہ اپنی پہلی جماعت (جس کی اس نے پیروی کی تھی) پر لعنت بھیجے گی، کیونکہ اسی کی وجہ سے وہ گمراہ ہوئی۔ یوں ہر آنے والی جماعت اپنے پیش روؤں کو برا بھلا کہے گی۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ جب سب پہلے اور پچھلے، قائد اور پیروکار، جہنم میں جمع ہو جائیں گے، تو پچھلے لوگ (یعنی اتباع اور کمزور لوگ) اپنے بڑوں اور قائدین کی وجہ سے اللہ سے کہیں گے: "اے ہمارے رب! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکایا، تو انہیں آگ سے دگنا عذاب دے۔"
اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: "تم میں سے ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے، یعنی پیروکاروں کے لیے بھی دگنا عذاب ہے کیونکہ انہوں نے گمراہی اختیار کی اور قائدین کے لیے بھی دگنا عذاب ہے کیونکہ انہوں نے گمراہ کیا، لیکن تم لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ ہر ایک کا عذاب کتنا شدید اور کس قدر مختلف ہے۔"
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک انتہائی اہم سبق دیا ہے کہ ہمیں اپنے عقیدے اور عمل کا خود احتساب کرنا چاہیے، نہ کہ آنکھیں بند کر کے کسی کی پیروی کرنی چاہیے۔ قیامت کے دن کوئی بہانہ قبول نہیں ہوگا، نہ یہ کہا جا سکے گا کہ ہم نے اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی یہ کیا تھا۔ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ سچائی اور حق کی راہ پر چلنا کتنا ضروری ہے، چاہے دنیا میں ہمیں تنہا ہی کیوں نہ چلنا پڑے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں خود تحقیق کریں، سمجھیں اور پھر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم اسے استعمال کریں، حق کو پہچانیں اور باطل سے بچیں۔
آئیے ہم اس آیت سے سبق لیں کہ اپنے دین کو سمجھ کر اپنائیں، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلائیں، اور قیامت کے اس دن سے ڈریں جب کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 36-40 — اعراف
ترجمہ — اعراف 38
سورہ اعراف آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو…سورہ آیت 38/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








