اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُولَاهُمْ: ان کے سردار اور پیشوا (قائدین)
لِأُخْرَاهُمْ: ان کے پیروکاروں اور ماتحتوں سے
مِن فَضْلٍ: کوئی برتری یا فضیلت
فَذُوقُوا: تو چکھو (مزہ چکھو)
بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ: ان اعمال کے بدلے جو تم کماتے رہے
تفسیر:
یہ آیت کریمہ قیامت کے اس منظر کی تصویر کشی کرتی ہے جب اہلِ جہنم ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے۔ اس دن سردار اور پیشوا اپنے پیروکاروں سے کہیں گے: "تمہیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، نہ تم ہم سے بہتر تھے اور نہ ہی تمہارے پاس کوئی ایسا عذر ہے جو تمہیں عذاب سے بچا سکے۔" یعنی دونوں گروہ کفر و گناہ میں برابر کے شریک تھے۔ سرداروں نے گمراہ کیا اور پیروکاروں نے ان کی اتباع کی، دونوں نے حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ ان سب سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: "اب تم سب عذاب کا مزہ چکھو، اس کے بدلے میں جو تم نے دنیا میں کفر و معصیت کے اعمال کمائے تھے۔" یہ اللہ کا عادلانہ فیصلہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں چند اہم سبق سکھاتی ہے:
ذمہ داری کا احساس: ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ کسی کی اتباع کرنا عذر نہیں بن سکتا۔ ہمیں حق کی تلاش خود کرنی چاہیے اور کسی کی اندھی تقلید سے بچنا چاہیے۔
قیادت کا خوف: جو لوگ دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، ان پر بھی ویسا ہی عذاب ہوگا جیسا پیروکاروں پر۔ اس لیے قیادت اور اثر و رسوخ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
آزادی اور عقل کا استعمال: اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم حق و باطل میں تمیز کریں۔ کسی بھی انسان کی بات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنا قیامت کے دن پچھتاوا بنے گا۔
اعمال کی جزا: یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
آئیے ہم اپنی زندگیوں میں اس کا عملی سبق اپنائیں کہ حق کو پہچانیں، اس پر عمل کریں، اور کسی کی اندھی تقلید سے بچیں۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو حق کو سن کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ آمین۔
تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے
تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔