ترجمہ — Tafsir
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۚ أُولَٰئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ الْكِتَابِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوا أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
لغت کے معانی:
- افترى: جھوٹ باندھنا، اللہ پر بہتان باندھنا۔
- كذب بآياته: اللہ کی نشانیوں اور اس کی نازل کردہ آیات کو جھٹلانا۔
- ينالهم نصيبهم: انہیں ان کا مقررہ حصہ ملے گا، یعنی جو کچھ ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔
- رسلنا: ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے، خاص طور پر موت کا فرشتہ اور اس کے مددگار۔
- يتوفونهم: ان کی روحیں قبض کرتے ہیں۔
- ضلوا عنا: وہ ہم سے گم ہو گئے، یعنی ہم سے غائب ہو گئے اور ہماری کچھ مدد نہ کر سکے۔
- شهدوا على أنفسهم: انہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دی۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑے ظلم کا ذکر فرمایا ہے، اور وہ ہے اللہ پر جھوٹ باندھنا یا اس کی آیات کو جھٹلانا۔ کوئی شخص اس سے بڑھ کر ظالم نہیں ہو سکتا جو اللہ کے بارے میں جھوٹ بولے، اس کے لیے شریک ٹھہرائے، یا اس کی نازل کردہ ہدایت کو ماننے سے انکار کر دے۔ یہ ظلمِ عظیم ہے کیونکہ اس کا تعلق خالقِ کائنات سے ہے، اور یہ انسان کو ہلاکت کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔
ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہیں دنیا میں بھی وہ حصہ ملے گا جو ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے، خواہ وہ خیر ہو یا شر، اور یہ سب کچھ اللہ کے علم اور اس کے فیصلے کے مطابق ہوگا۔ پھر جب موت کا وقت آئے گا اور فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے آئیں گے، تو وہ ان سے پوچھیں گے: "وہ معبود کہاں ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ آج وہ تمہاری مدد کو کیوں نہیں آئے؟" یہ سوال انہیں شرمندہ کرنے اور ان پر الزام ثابت کرنے کے لیے ہوگا۔
اس وقت وہ مشرکین جواب دیں گے: "وہ ہم سے گم ہو گئے، ہم سے غائب ہو گئے، اور ہماری کچھ مدد نہ کر سکے۔" اور اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے اور اللہ کی وحدانیت کے منکر تھے۔ لیکن یہ اعتراف اس وقت کوئی فائدہ نہ دے گا، کیونکہ یہ اعترافِ جرم ہے جو عذاب کے وقت کیا جائے گا، جب کوئی توبہ قبول نہیں ہوتی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے، اور نہ ہی اس کی آیات کو جھٹلانا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی توحید پر مضبوطی سے قائم رہیں اور اس کی نازل کردہ ہدایت کو قبول کریں۔ یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے کہ آخرت میں ہر شخص سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی، اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں یا اس کی آیات کو جھٹلاتے ہیں، ان کا انجام بہت برا ہوگا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، شرک اور کفر سے بچیں، اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلب گار رہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت رحم فرمانے والا ہے، اور جو شخص سچے دل سے توبہ کرے، اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔
📜 آیت 35-39 — اعراف
ترجمہ — اعراف 37
سورہ آیت 37/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








