توبہ · 122/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
۞ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ۝١٢٢
Wa maa kaanal mu`minoona liyanfiroo kaaaffah; falaw laa nafara min kulli firqatim minhum taaa`ifatul liyatafaqqahoo fiddeeni wa liyunziroo qawmahum izaa raja`ooo ilaihim la`allahum yahzaroon
📖 اردو ترجمہ
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا (علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لِيَنفِرُوا: نکلنا، کوچ کرنا، (یہاں مراد جہاد کے لیے نکلنا ہے
  • كَافَّةً: سب کے سب، یکجا ہو کر۔
  • فَلَوْلَا: کیوں نہیں، ایسا کیوں نہیں ہوتا۔
  • فِرْقَةٍ: گروہ، جماعت۔
  • طَائِفَةٌ: ایک جماعت، کچھ لوگ۔
  • لِيَتَفَقَّهُوا: دین میں سمجھ حاصل کریں، علمِ دین سیکھیں۔
  • لِيُنذِرُوا: ڈرائیں، خبردار کریں، نصیحت کریں۔
  • يَحْذَرُونَ: ڈریں، بچیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہلِ ایمان کو ایک اہم اصول سکھا رہے ہیں۔ یہ بات مسلمانوں کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ سب کے سب ایک ساتھ جہاد کے لیے نکل پڑیں اور رسول اللہ ﷺ کو تنہا چھوڑ دیں۔ نہ یہ مناسب ہے کہ سب گھر بیٹھ رہیں اور کوئی دین سیکھنے اور سکھانے کے لیے نہ نکلے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت جہاد کے لیے نکلے، اور باقی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہ کر دین کا علم حاصل کریں۔

اس تقسیمِ کار کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ پیچھے رہتے ہیں وہ قرآن و سنت کا علم حاصل کریں، دین کی سمجھ پیدا کریں، اور جب جہاد کرنے والے لوگ واپس آئیں تو یہ علماء انہیں دین کی باتیں سکھائیں، نصیحت کریں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرائیں تاکہ وہ اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ دین کا علم حاصل کرنا اور دوسروں کو سکھانا فرضِ کفایہ ہے، یعنی اگر کچھ لوگ یہ ذمہ داری نبھا دیں تو سب پر سے فرض اتر جاتا ہے، لیکن اگر کوئی نہ کرے تو سب گناہ گار ہوں گے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ہر کام کے لیے مناسب تقسیمِ کار ضروری ہے۔ کچھ لوگ جہاد کریں، کچھ علم حاصل کریں، کچھ معاشرے کی خدمت کریں، اور کچھ دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیں۔ یہی توازن امتِ مسلمہ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

آج بھی ہمیں اس اصول پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ دین کا علم حاصل کرے، اور جو لوگ علم حاصل کریں وہ اپنے بھائیوں کو سکھائیں۔ یاد رکھیں! علم حاصل کرنا اور اسے پھیلانا بہترین عبادت ہے، اور جو شخص دین کی سمجھ حاصل کر کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہے، وہ لوگوں کو جہنم کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

🎧 سنیں

📜 آیت 120-124 — توبہ

120مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا عَن رَّسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
121وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے
122۞ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا (علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے
123يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
124وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَٰذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزاء کرتے اور) پوچھتے کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے۔ سو جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان تو زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
122آیت

ترجمہ — توبہ 122

سورہ توبہ آیت 122 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے…

سورہ آیت 122/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 120–124. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں