توبہ · 121/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۝١٢١
Wa laa yunfiqoona nafa qatan sagheeratanw wa laa kabeeratanw wa laa yaqta`oona waadiyan illaa kutiba lahum liyajziyahumul laahu ahsana maa kaanoo ya`maloon
📖 اردو ترجمہ
اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَفَقَةً صَغِيرَةً: چھوٹا خرچ، جیسے ایک کھجور یا ایک مٹھی غلہ۔
  • کَبِیرَةً: بڑا خرچ، جیسے مال کی بڑی مقدار جو اللہ کی راہ میں دی جائے۔
  • یَقْطَعُونَ وَادِیًا: کسی وادی (میدان یا گھاٹی) کو عبور کرنا، یعنی سفر میں کسی مقام سے گزرنا۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری بیان فرما رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر دین کی سربلندی کے لیے نکلتے ہیں، ان کی کوئی بھی چھوٹی یا بڑی قربانی رائیگاں نہیں جاتی۔ چاہے وہ ایک معمولی سا خرچ ہو، جیسے ایک کھجور یا تھوڑا سا پانی، یا بڑا خرچ ہو، جیسے مال کی بڑی مقدار جو اللہ کی راہ میں دی جائے، یا وہ سفر میں کسی وادی اور میدان سے گزریں، یہ سب کچھ اللہ کے ہاں لکھا جاتا ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں ذکر کی ہیں: ایک مال کا خرچ، دوسری راہ میں مشقت اٹھانا (جیسے وادیوں کا قطع کرنا)۔ دونوں کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی راہ میں کی جانے والی ہر چھوٹی سے چھوٹی کوشش بھی ضائع نہیں ہوتی، بلکہ اللہ اسے قبول فرماتا ہے اور اس کا بدلہ دیتا ہے۔

آخر میں فرمایا کہ یہ سب کچھ اس لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بہترین اعمال کا بدلہ دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ بڑا فضل فرماتا ہے کہ وہ ان کے چھوٹے اعمال کو بھی بڑا اجر عطا کرتا ہے، اور ان کی تمام نیکیوں میں سے بہترین نیکی کی بنیاد پر انہیں جزا دیتا ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت مسلمانوں کے دلوں میں جذبہ ایثار و قربانی پیدا کرتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور مشقت اٹھانے کا کوئی معمولی عمل بھی اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتا۔ آج بھی جب کوئی مسلمان اپنے مال سے زکوٰۃ، صدقہ یا خیرات کرتا ہے، یا دین کی خدمت کے لیے اپنا وقت اور محنت صرف کرتا ہے، تو اسے یقین ہونا چاہیے کہ اللہ اس کا اجر ضرور دے گا۔ یہ آیت ہمیں بخل اور کاہلی سے بچاتی ہے اور سخاوت اور جاں فشانی کی ترغیب دیتی ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ ہر نیکی کا بدلہ دینے والا ہے، چاہے وہ نیکی کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ اللہ ہمیں اپنی راہ میں خرچ کرنے اور اس کی رضا کے لیے مشقتیں برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 119-123 — توبہ

119يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو
120مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا عَن رَّسُولِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
121وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے (اعمال صالحہ) میں لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے
122۞ وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا (علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے
123يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
121آیت

ترجمہ — توبہ 121

سورہ توبہ آیت 121 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (اسی طرح) جو وہ خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا…

سورہ آیت 121/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 119–123. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں