ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- إِیلَافِهِمْ: ان کی عادت، مانوس ہونا، الفت اور واقفیت۔
- رِحْلَةَ: سفر، کوچ۔
- الشِّتَاءِ: سردی کا موسم۔
- الصَّیْفِ: گرمی کا موسم۔
تفسیر:
یعنی قریش کو سردیوں اور گرمیوں کے سفر کی عادت ڈالی گئی۔ سردی کے موسم میں وہ یمن کا سفر کرتے تھے کیونکہ وہاں کا موسم گرم اور خوشگوار ہوتا تھا، اور گرمی کے موسم میں شام کا سفر کرتے تھے کیونکہ وہاں کی فضا ٹھنڈی اور تجارت کے لیے سازگار تھی۔ یہ دونوں سفریں ان کی روزی اور تجارت کا ذریعہ تھیں، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سفرون میں امن و امان عطا فرمایا تھا، کوئی دشمن انہیں نہیں چھیڑتا تھا، نہ کوئی قافلہ لوٹتا تھا۔ یہ اللہ کی ایک بڑی نعمت تھی جو قریش کو حاصل تھی، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس نعمت کے بدلے اللہ کی عبادت کریں اور اس کا شکر ادا کریں۔
فوائد:
- اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی روزی کے انتظامات خود فرماتا ہے اور انہیں سفر و حضر میں امن عطا کرتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے رب پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
- تجارت اور حلال روزی کمانے کے لیے سفر کرنا باعثِ برکت ہے، اور یہ سنتِ انبیاء اور نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے۔
- اللہ کی نعمتوں کا صحیح استعمال یہ ہے کہ ہم ان کے بدلے اس کی عبادت کریں اور اس کا شکر ادا کریں، نہ کہ نافرمانی کریں۔
- امن و استحکام ایک بہت بڑی نعمت ہے، جس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کے لیے اللہ کا شکرگزار ہونا چاہیے۔
📜 آیت 1-4 — قریش
ترجمہ — قریش 2
سورہ قریش آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس…سورہ آیت 2/4 — قریش قريش (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قریش سنیں, قریش ترجمہ, قریش mp3, قریش pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








