Wa qulil haqqu mir Rabbikum faman shaaa`a falyu minw wa man shaaa`a falyakfur; innaaa a`tadnaa lizzaalimeena Naaran ahaata bihim suraadiquhaa; wa iny yastagheesoo yaghaasoo bimaaa`in kalmuhli yashwil wujooh` bi`sash-sharaab; wa saaa`at murtafaqaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بگو: اين سخن حق از جانب پروردگار شماست. هر كه بخواهد ايمان بياورد و هر كه بخواهد كافر شود. ما براى كافران آتشى كه لهيب آن همه را دربرمىگيرد، آماده كردهايم و چون به استغاثه آب خواهند از آبى چون مس گداخته كه از حرارتش چهرهها كباب مىشود بخورانندشان، چه آب بدى و چه آرامگاهى بد.
اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سُرادِق: خیمے یا عمارت کو گھیرنے والا پردہ، یہاں مراد وہ آگ ہے جو کافروں کو ہر طرف سے گھیر لے گی۔
المُهل: تیل کی تلچھٹ یا سیاہ خون اور پیپ جیسا گاڑھا مائع، جو انتہائی گرم ہو۔
یَشوی: بھون ڈالے، جھلسا دے۔
مُرتَفَق: ٹھہرنے کی جگہ، آرام گاہ، بیٹھنے کی جگہ۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان غافلوں سے فرما دیں کہ جو کچھ میں لے کر آیا ہوں، وہ حق ہے اور تمہارے رب کی طرف سے ہے، نہ کہ میری اپنی طرف سے۔ میں تمہاری خواہش کی خاطر ایمان والوں کو اپنے پاس سے نہیں ہٹا سکتا۔ اب جس کا دل چاہے ایمان لائے اور جس کا دل چاہے کفر کرے، لیکن جان لے کہ یہ اختیار آزمائش کے لیے ہے، نتیجہ اس کے اعمال کے مطابق ہوگا۔ ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کا پردہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا، وہ اس سے نکل بھاگنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔ اگر وہ شدت کی پیاس سے فریاد کریں گے تو انہیں ایسا پانی پلایا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ جیسا گاڑھا اور انتہائی گرم ہوگا، جو چہروں کو جھلسا دے گا۔ یہ بدترین مشروب ہے جو پیاس نہیں بجھائے گا بلکہ اور بڑھا دے گا، اور وہ ٹھہرنے کی جگہ بھی بہت بری ہے۔
اس آیت میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ پیغام ہے کہ اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے، راہِ حق واضح کر دی ہے، اب جو بھلائی چاہے اسے اپنائے اور جو برائی چاہے اسے اختیار کرے، لیکن ہر عمل کا نتیجہ ضرور بھگتنا ہوگا۔ اے بھائیو! یہ اختیار اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں مجبور نہیں کیا، بلکہ عقل اور ہدایت دی، تاکہ ہم اپنی مرضی سے ایمان کا راستہ چنیں اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔ اللہ کا ڈر اور محبت ہمیں اس اختیار کو صحیح استعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا
اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری
ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیئے لگا کر بیٹھا کریں گے۔ (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔