Wasbir nafsaka ma`al lazeena yad`oona Rabbahum bilghadaati wal`ashiyyi yureedoona Wajhahoo wa laa ta`du `aynaaka `anhum tureedu zeenatal hayaatid dunyaa wa laa tuti` man aghfalnaa qalbahoo `an zikrinaa wattaba`a hawaahu wa kaana amruhoo furutaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و همراه با كسانى كه هر صبح و شام پروردگارشان را مىخوانند و خشنودى او را مىجويند، خود را به صبر وادار. و نبايد چشمان تو براى يافتن پيرايههاى اين زندگى دنيوى از اينان منصرف گردد. و از آن كه دلش را از ذكر خود بىخبر ساختهايم، و از پى هواى نفس خود مىرود و در كارهايش اسراف مىورزد، پيروى مكن.
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ: اپنے نفس کو روکو اور ثابت قدم رکھو۔
بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ: صبح و شام (دن کے دونوں سروں پر)۔
یُرِیدُونَ وَجْهَهُ: وہ صرف اللہ کی رضا اور اس کا چہرہ چاہتے ہیں۔
لَا تَعْدُ عَیْنَاكَ: تمہاری آنکھیں ان سے تجاوز نہ کریں (یعنی انہیں چھوڑ کر دوسروں کی طرف نہ جائیں)۔
زِینَةَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا: دنیاوی زندگی کی زیب و زینت۔
أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ: جس کے دل کو ہم نے غفلت میں ڈال دیا۔
فُرُطًا: حد سے تجاوز کرنے والا، ضائع اور برباد۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! اپنے آپ کو ان لوگوں کی صحبت میں ثابت قدم رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے دعائیں مانگتے ہیں، اور ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور اس کا دیدار ہوتا ہے، نہ کہ دنیا کا کوئی فائدہ یا مال و دولت۔ ان غریب مومنوں کو اپنی مجلس سے ہرگز نہ ہٹاؤ، اور اپنی نگاہیں ان سے نہ پھیرو کہ کہیں تمہاری نظر دنیا کی چمک دمک اور مالدار لوگوں کی طرف مائل ہو جائے۔ یاد رکھو، یہ فقیر مومن اللہ کے نزدیک بڑی عزت والے ہیں۔
اور ان لوگوں کی بات ہرگز نہ مانو جن کے دلوں کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے، جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا ہے، اور جن کا سارا معاملہ حد سے تجاوز، اسراف اور بربادی پر مبنی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تمہیں غریب مومنوں کو اپنی مجلس سے دور کرنے کا کہتے ہیں تاکہ وہ تمہارے قریب بیٹھ سکیں، لیکن تم ان کی بات ہرگز نہ ماننا۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب عیینہ بن حصن اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ آپ ان غریب صحابہ (جیسے بلال، عمار، صہیب اور خباب رضی اللہ عنہم) کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں تاکہ ہم آپ کے پاس بیٹھ سکیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان غریب مومنوں کی صحبت کو ہر حالت میں برقرار رکھو، کیونکہ ان کی صحبت ہی اصل عزت اور کامیابی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کی عزت اس کے مال، حسب و نسب یا دنیاوی حیثیت سے نہیں، بلکہ اس کے تقویٰ اور ایمان سے ہے۔ غریب مومن اللہ کے ہاں بہت محبوب ہیں، اور ان کی صحبت برکت کا باعث ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مجالس میں غریبوں، مسکینوں اور کمزور مسلمانوں کو عزت دیں، انہیں دور نہ کریں، اور دنیا دار لوگوں کی خوشنودی کے لیے انہیں حقیر نہ سمجھیں۔ یاد رکھیں، جو لوگ صبح و شام اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور صرف اس کی رضا چاہتے ہیں، وہی اصل میں کامیاب ہیں، چاہے دنیا کی نظر میں وہ کتنے ہی معمولی کیوں نہ ہوں۔ اللہ ہمیں ان کی محبت اور ان کی صحبت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا
کہہ دو کہ جتنی مدّت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے۔ اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں (معلوم) ہیں۔ وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی شریک کو کرتا ہے
اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا
اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔