(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آمَنُوا: ایمان لائے، دل سے تصدیق کی۔
الصَّالِحَاتِ: نیک اعمال، وہ کام جو شریعت کے مطابق ہوں اور خلوص نیت سے کیے جائیں۔
لَا نُضِيعُ: ہم ضائع نہیں کرتے، برباد نہیں کرتے۔
أَحْسَنَ عَمَلًا: جس نے اپنا عمل خوبصورت بنایا، یعنی اسے احسن طریقے سے انجام دیا۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو خوشخبری سناتا ہے۔ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق نیک اعمال کیے، ان کے لیے بڑا اجر اور عظیم ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے اجر کو ہرگز ضائع نہیں کریں گے، بلکہ ان کے اعمال کو مکمل طور پر قبول فرمائیں گے اور انہیں پورا پورا بدلہ عطا کریں گے، بغیر کسی کمی کے۔
یہاں خاص طور پر "أَحْسَنَ عَمَلًا" کا لفظ آیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ عمل صرف نیک ہی نہ ہو بلکہ اسے بہترین طریقے سے انجام دیا جائے۔ یعنی عمل میں اخلاص ہو، سنت کے مطابق ہو، اور اسے خوبصورتی سے کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا، چاہے وہ عمل چھوٹا ہو یا بڑا، کیونکہ اللہ کا فضل و کرم بہت وسیع ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ رب العزت اپنے بندوں کو بہت بڑی خوشخبری دیتا ہے کہ اس کے ہاں کسی کا عمل ضائع نہیں ہوتا۔ یہ بات ہر مسلمان کے دل میں امید پیدا کرتی ہے کہ اگر وہ ایمان لائے اور نیک عمل کرے، تو اللہ اسے ضرور بدلہ دے گا۔ چاہے دنیا میں لوگ اس کے عمل کو پہچانیں یا نہ پہچانیں، اللہ کے ہاں اس کا اجر محفوظ ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم مایوس نہ ہوں، نیکی پر چلتے رہیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ بے حد رحمت والا ہے، وہ کسی کا حق نہیں مارتا، بلکہ اپنے فضل سے اور زیادہ عطا فرماتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اپنے اعمال کو بہتر بنائیں، تاکہ ہم اللہ کی اس عظیم رحمت کے مستحق بن سکیں۔
اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا
اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری
ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیئے لگا کر بیٹھا کریں گے۔ (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے
اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔