Ammas safeenatu fakaanat limasaakeena ya`maloona fil bahri fa arattu an a`eebahaa wa kaana waraaa` ahum malikuny yaakhuzu kulla safeenatin ghasbaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اما آن كشتى از آنِ بينوايانى بود كه در دريا كار مىكردند. خواستم معيوبش كنم، زيرا در آن سوترشان پادشاهى بود كه كشتيها را به غصب مىگرفت.
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لِمَسَاكِينَ: کمزور اور غریب لوگ
یَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ: سمندر میں (کشتی کے ذریعے) روزی کمانے کے لیے محنت کرتے تھے
أَعِيبَهَا: اسے عیب دار بنا دوں (نقصان پہنچا دوں)
وَرَاءَهُم: ان کے آگے (راستے میں)
غَصْبًا: زبردستی، جبراً
تفسیر:
حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کشتی کے بارے میں وضاحت فرمائی جسے انہوں نے خرق کیا تھا۔ فرمایا: یہ کشتی کچھ غریب اور کمزور لوگوں کی تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرکے اپنی روزی کماتے تھے۔ یہ لوگ اتنے نادار تھے کہ اپنی کشتی کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے یہ کشتی عیب دار اس لیے کر دی کہ ان کے راستے میں ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر اچھی اور صحیح سالم کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ جب وہ بادشاہ اس کشتی کو دیکھے گا کہ اس میں عیب ہے (خراب ہے) تو وہ اسے چھوڑ دے گا اور یوں غریب مزدوروں کی روزی محفوظ رہ جائے گی۔
یہ اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت تھی کہ ظاہری طور پر یہ نقصان تھا، لیکن حقیقت میں یہ ان غریب لوگوں کے لیے بہت بڑا تحفظ تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حفاظت ایسے طریقوں سے فرماتے ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہوتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ بعض اوقات جو چیز ظاہری طور پر نقصان دہ نظر آتی ہے، وہ دراصل ہمارے لیے رحمت ہوتی ہے۔ جیسے یہ کشتی عیب دار ہونے کے باوجود ان غریب مزدوروں کے لیے باعثِ برکت بن گئی، کیونکہ اس سے ان کا مال ظالم بادشاہ سے محفوظ رہا۔ ہمیں چاہیے کہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور یقین رکھیں کہ اللہ جو کرتا ہے بندے کی بھلائی کے لیے ہی کرتا ہے۔ یہ ایمان کی مضبوطی کی نشانی ہے کہ انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے اور اس کی حکمت پر کامل یقین رکھے۔
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔