کہف · 79/110
ترجمہ تلفظ — کہف
أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا ۝٧٩
Ammas safeenatu fakaanat limasaakeena ya`maloona fil bahri fa arattu an a`eebahaa wa kaana waraaa` ahum malikuny yaakhuzu kulla safeenatin ghasbaa
📖 اردو ترجمہ
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لِمَسَاكِينَ: کمزور اور غریب لوگ
  • یَعْمَلُونَ فِی الْبَحْرِ: سمندر میں (کشتی کے ذریعے) روزی کمانے کے لیے محنت کرتے تھے
  • أَعِيبَهَا: اسے عیب دار بنا دوں (نقصان پہنچا دوں)
  • وَرَاءَهُم: ان کے آگے (راستے میں)
  • غَصْبًا: زبردستی، جبراً

تفسیر:

حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کشتی کے بارے میں وضاحت فرمائی جسے انہوں نے خرق کیا تھا۔ فرمایا: یہ کشتی کچھ غریب اور کمزور لوگوں کی تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرکے اپنی روزی کماتے تھے۔ یہ لوگ اتنے نادار تھے کہ اپنی کشتی کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے یہ کشتی عیب دار اس لیے کر دی کہ ان کے راستے میں ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر اچھی اور صحیح سالم کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ جب وہ بادشاہ اس کشتی کو دیکھے گا کہ اس میں عیب ہے (خراب ہے) تو وہ اسے چھوڑ دے گا اور یوں غریب مزدوروں کی روزی محفوظ رہ جائے گی۔

یہ اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت تھی کہ ظاہری طور پر یہ نقصان تھا، لیکن حقیقت میں یہ ان غریب لوگوں کے لیے بہت بڑا تحفظ تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حفاظت ایسے طریقوں سے فرماتے ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہوتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ بعض اوقات جو چیز ظاہری طور پر نقصان دہ نظر آتی ہے، وہ دراصل ہمارے لیے رحمت ہوتی ہے۔ جیسے یہ کشتی عیب دار ہونے کے باوجود ان غریب مزدوروں کے لیے باعثِ برکت بن گئی، کیونکہ اس سے ان کا مال ظالم بادشاہ سے محفوظ رہا۔ ہمیں چاہیے کہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور یقین رکھیں کہ اللہ جو کرتا ہے بندے کی بھلائی کے لیے ہی کرتا ہے۔ یہ ایمان کی مضبوطی کی نشانی ہے کہ انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے اور اس کی حکمت پر کامل یقین رکھے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 77-81 — کہف

77فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)
78قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا
خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں
79أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
80وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
81فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا
تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
79آیت

ترجمہ — کہف 79

سورہ کہف آیت 79 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو…

سورہ آیت 79/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 77–81. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں