کہف · 80/110
ترجمہ تلفظ — کہف
وَأَمَّا ٱلۡغُلَٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِينَآ أَن يُرۡهِقَهُمَا طُغۡيَٰنًا وَكُفۡرًا  ۝٨٠
Wa aammal ghulaamu fakaana abawaahu mu`minaini fakhasheenaaa any yurhiqa humaa tughyaananw wa kufraa
📖 اردو ترجمہ
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْغُلَامَ: لڑکا، نوجوان۔
  • فَخَشِينَا: ہم نے ڈر محسوس کیا۔
  • يُرْهِقَهُمَا: ان دونوں (والدین) کو جبراً یا سختی سے کسی چیز میں مبتلا کر دے۔
  • طُغْيَانًا وَكُفْرًا: سرکشی اور کفر (یعنی حد سے بڑھنا اور اللہ کا انکار

تفسیر:

اس آیت میں حضرت خضر علیہ السلام اس لڑکے کے بارے میں وضاحت فرما رہے ہیں جسے انہوں نے قتل کیا تھا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تھا۔ فرمایا: "اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا، اس کے والدین دونوں مومن تھے، لیکن وہ لڑکا اللہ کے علم میں کافر تھا۔ ہمیں ڈر تھا کہ اگر وہ زندہ رہا تو اپنے والدین کو اپنی محبت اور ضرورت کے باعث طغیان اور کفر پر مجبور کر دے گا۔"

یہاں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصلحت کو خوب جانتا ہے۔ والدین کی ایمانی محبت اور لڑکے کی کفرانہ روش نے خطرہ پیدا کر دیا تھا کہ وہ انہیں گمراہ کر دے گا۔ اس لیے اللہ کے حکم سے اس لڑکے کو اٹھا لیا گیا تاکہ والدین کا ایمان محفوظ رہے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بدلے ایک بہتر اور نیک اولاد عطا فرمائی۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور فیصلے ہمیشہ بندوں کی بھلائی کے لیے ہوتے ہیں، چاہے وہ ظاہری طور پر تلخ یا سمجھ سے باہر کیوں نہ لگیں۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے اور یقین رکھے کہ اللہ جو کرتا ہے بہتری کے لیے کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اولاد کی تربیت اور ان کے ایمان کی حفاظت کتنی اہم ہے، اور والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو نیکی اور تقویٰ کی راہ پر لگائیں تاکہ وہ ان کے لیے باعثِ رحمت بنیں، نہ کہ باعثِ گمراہی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فیصلوں پر صبر اور رضا کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 78-82 — کہف

78قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيۡنِي وَبَيۡنِكَۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأۡوِيلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرًا 
خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں
79أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتۡ لِمَسَٰكِينَ يَعۡمَلُونَ فِي ٱلۡبَحۡرِ فَأَرَدتُّ أَنۡ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٌ يَأۡخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصۡبًا 
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
80وَأَمَّا ٱلۡغُلَٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِينَآ أَن يُرۡهِقَهُمَا طُغۡيَٰنًا وَكُفۡرًا 
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
81فَأَرَدۡنَآ أَن يُبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّنۡهُ زَكَوٰةً وَأَقۡرَبَ رُحۡمًا 
تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو
82وَأَمَّا ٱلۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَٰمَيۡنِ يَتِيمَيۡنِ فِي ٱلۡمَدِينَةِ وَكَانَ تَحۡتَهُۥ كَنزٌ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَٰلِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبۡلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنزَهُمَا رَحۡمَةً مِّن رَّبِّكَۚ وَمَا فَعَلۡتُهُۥ عَنۡ أَمۡرِيۚ ذَٰلِكَ تَأۡوِيلُ مَا لَمۡ تَسۡطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرًا 
اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
80آیت

ترجمہ — کہف 80

سورہ آیت 80/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 78–82. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں