اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْغُلَامَ: لڑکا، نوجوان۔
فَخَشِينَا: ہم نے ڈر محسوس کیا۔
يُرْهِقَهُمَا: ان دونوں (والدین) کو جبراً یا سختی سے کسی چیز میں مبتلا کر دے۔
طُغْيَانًا وَكُفْرًا: سرکشی اور کفر (یعنی حد سے بڑھنا اور اللہ کا انکار)۔
تفسیر:
اس آیت میں حضرت خضر علیہ السلام اس لڑکے کے بارے میں وضاحت فرما رہے ہیں جسے انہوں نے قتل کیا تھا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تھا۔ فرمایا: "اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا، اس کے والدین دونوں مومن تھے، لیکن وہ لڑکا اللہ کے علم میں کافر تھا۔ ہمیں ڈر تھا کہ اگر وہ زندہ رہا تو اپنے والدین کو اپنی محبت اور ضرورت کے باعث طغیان اور کفر پر مجبور کر دے گا۔"
یہاں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصلحت کو خوب جانتا ہے۔ والدین کی ایمانی محبت اور لڑکے کی کفرانہ روش نے خطرہ پیدا کر دیا تھا کہ وہ انہیں گمراہ کر دے گا۔ اس لیے اللہ کے حکم سے اس لڑکے کو اٹھا لیا گیا تاکہ والدین کا ایمان محفوظ رہے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بدلے ایک بہتر اور نیک اولاد عطا فرمائی۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور فیصلے ہمیشہ بندوں کی بھلائی کے لیے ہوتے ہیں، چاہے وہ ظاہری طور پر تلخ یا سمجھ سے باہر کیوں نہ لگیں۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے اور یقین رکھے کہ اللہ جو کرتا ہے بہتری کے لیے کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اولاد کی تربیت اور ان کے ایمان کی حفاظت کتنی اہم ہے، اور والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو نیکی اور تقویٰ کی راہ پر لگائیں تاکہ وہ ان کے لیے باعثِ رحمت بنیں، نہ کہ باعثِ گمراہی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فیصلوں پر صبر اور رضا کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔