کہف · 78/110
ترجمہ تلفظ — کہف
قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا ۝٧٨
Qaala haazaa firaaqu bainee wa bainik; sa unabi `uka bitaaweeli maa lam tastati` `alaihi sabraa
📖 اردو ترجمہ
خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فِرَاقُ: جدائی، علیحدگی
  • تَأْوِيلِ: حقیقت، انجام، وہ اصل معنی جو ظاہری شکل کے پیچھے پوشیدہ ہوں
  • لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا: جس پر آپ صبر نہ کر سکے

تفسیر:

حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: یہ وہ مقام ہے جہاں میری اور آپ کی رفاقت ختم ہوتی ہے۔ یہ جدائی اس لیے ہے کیونکہ آپ نے دیوار کو درست کرنے کے بعد اجرت لینے سے انکار پر اعتراض کیا، اور یہی وہ آخری واقعہ تھا جس پر آپ صبر نہ کر سکے۔

پھر حضرت خضر علیہ السلام نے وعدہ کیا کہ اب میں آپ کو ان تمام واقعات کی حقیقت اور ان کا اصل انجام بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہ کر سکے اور جن کے بارے میں آپ نے مجھ سے سوال کیا۔ یعنی اب وہ وقت آگیا ہے کہ میں آپ کو ان پوشیدہ حکمتوں سے آگاہ کروں جو ان ظاہری اعمال کے پیچھے تھیں، تاکہ آپ کو یقین ہو جائے کہ یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اس کے خاص علم کے تحت تھا۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض خاص بندے ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے خاص علم اور حکمت عطا فرمائی ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے سے بڑھ کر علم رکھنے والوں کی باتوں پر صبر کریں اور جلدی فیصلہ نہ کریں، کیونکہ اللہ کے معاملات میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہوتی ہیں۔ یہ قصہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے صبر اور تحمل بہت ضروری ہے، اور جو شخص صبر کرتا ہے، اللہ اسے وہ حکمتیں عطا فرماتا ہے جو دوسروں کو نہیں ملتیں۔

آئیے ہم اس سے سبق لیں کہ اپنے معاملات میں عجلت نہ کریں، اور اللہ کے فیصلوں پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ جو کچھ کرتا ہے بہتر ہی کے لیے کرتا ہے، چاہے ہماری ظاہری عقل اسے سمجھ نہ پائے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 76-80 — کہف

76قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًا
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے
77فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)
78قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا
خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں
79أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُم مَّلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
80وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
78آیت

ترجمہ — کہف 78

سورہ کہف آیت 78 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔…

سورہ آیت 78/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 76–80. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں