Wa izib talaaa Ibraaheema Rabbuho bi Kalimaatin fa atammahunna qaala Innee jaa`iluka linnaasi Imaaman qaala wa min zurriyyatee qaala laa yanaalu `ahdiz zaalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و پروردگار ابراهيم او را به كارى چند بيازمود و ابراهيم آن كارها را به تمامى به انجام رسانيد. خدا گفت: من تو را پيشواى مردم گردانيدم. گفت: فرزندانم را هم؟ گفت: پيمان من ستمكاران را در بر نگيرد.
اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ابتلا: آزمایا، جانچا۔
بکلمات: کچھ احکام اور تکالیف کے ذریعے۔
فاتمّهنّ: انہوں نے انہیں مکمل طور پر ادا کیا اور پورا کیا۔
امامًا: پیشوا، جس کی پیروی کی جائے۔
ذرّیتی: میری اولاد سے۔
عهدی: میرا وعدہ، یعنی نبوت اور امامت کا عہد۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم امتحان کا ذکر فرما رہے ہیں، جب انہیں مختلف احکام اور شریعت کے اصولوں پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ احکام ان کی آزمائش کا ذریعہ بنے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں نہ صرف قبول کیا بلکہ پوری وفاداری اور خلوص کے ساتھ ان پر عمل کرکے ثابت کر دیا کہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ جب انہوں نے یہ امتحان کامیابی سے پاس کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم مرتبہ عطا فرمایا اور کہا: "میں تمہیں تمام انسانوں کا امام اور پیشوا بناتا ہوں۔" یعنی ان کی زندگی، ان کے اخلاق اور ان کے اعمال لوگوں کے لیے نمونہ بن جائیں گے۔
اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ "یا رب! میری اولاد میں سے بھی ایسے امام بنا دے جو لوگوں کی رہنمائی کریں۔" اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: "میرا یہ عہد (امامت اور نبوت) ظالموں کو نہیں ملے گا۔" یعنی جو لوگ ظلم کریں گے، چاہے وہ میری اولاد میں سے ہی کیوں نہ ہوں، وہ اس منصب کے اہل نہیں ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امامت اور دینی قیادت صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو عدل و انصاف پر قائم رہیں اور ظلم سے بچیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اہم سبق ملتے ہیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتے ہیں تاکہ ان کے درجات بلند کریں، اور جو لوگ آزمائشوں میں صبر اور اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں۔ دوم یہ کہ دین کی قیادت اور امامت کوئی وراثتی جاگیر نہیں، بلکہ یہ تقویٰ، عدل اور نیکی کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں عدل و انصاف کو اپنائیں، ظلم سے بچیں، اور اللہ کے احکام پر مکمل عمل کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہم بھی اللہ کے قریب ہو سکیں اور اس کی رحمت کے مستحق بن سکیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کرنی چاہیے کہ وہ نیک اور صالح بنیں، تاکہ وہ دین کی خدمت کر سکیں اور لوگوں کی رہنمائی کا باعث بنیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اور ہماری اولاد کو نیک اور صالح بنائے اور ہمیں ظلم سے بچائے۔ آمین۔
اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے، اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے
اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا
اور جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے، اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسمٰعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔