ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَا تَجْزِي: کسی کے بدلے کسی کو فائدہ نہ پہنچانا، کسی کی طرف سے کسی کا بدلہ نہ بننا۔
- عَدْلٌ: فدیہ، معاوضہ، بدلہ۔
- شَفَاعَةٌ: سفارش، کسی کی طرف سے کسی کے لیے مداخلت۔
- یُنْصَرُونَ: مدد دیے جانے والے، انہیں کوئی مددگار یا ناصر ملنا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہلِ ایمان کو قیامت کے اس خوفناک دن سے ڈراتے ہیں جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے کسی کام نہ آئے گا۔ اس دن نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا، نہ بیٹا اپنے باپ کے، نہ کوئی دوست اپنے دوست کے، نہ کوئی رشتہ دار اپنے رشتہ دار کے۔ ہر شخص اپنی فکر میں ڈوبا ہوگا، ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دینے میں مصروف ہوگا۔ اس دن نہ تو کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا، چاہے وہ سونے سے بھرا ہوا پہاڑ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں اور وہ عدل و انصاف کا مالک ہے۔ نہ ہی کسی کی سفارش کسی کو فائدہ دے گی، چاہے وہ سفارش کرنے والا کوئی بھی ہو، کیونکہ اس دن شفاعت صرف اسی کے لیے ہوگی جس کے لیے اللہ نے اجازت دی ہو، اور یہ اجازت صرف ایمان و عملِ صالح والوں کے لیے ہوگی۔ اور نہ ہی کسی کو کوئی مددگار ملے گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
یہ آیت دراصل اہلِ ایمان کو اس دن کے لیے تیاری کی تلقین کر رہی ہے۔ جس طرح ایک عقلمند مسافر سفر سے پہلے اپنا سامان تیار کرتا ہے، اسی طرح ایک عقلمند مومن کو چاہیے کہ اس طویل سفرِ آخرت کے لیے توشۂ تقویٰ تیار کرے۔ یہ دن ایسا دن ہے جب نہ دوستی کام آئے گی، نہ رشتہ داری، نہ مال و دولت، نہ اولاد۔ صرف اور صرف ایمان اور نیک اعمال کام آئیں گے۔
لہٰذا اے مسلمان! آج ہی سے اپنے رب کی اطاعت کا راستہ اختیار کر، اس کے احکام پر عمل کر، اس کی منع کردہ چیزوں سے بچ، اور اس دن کے لیے تیاری کر جب کوئی کسی کا ساتھ نہ دے گا۔ یہ وہ دن ہے جس کا خوف ہر مومن کے دل میں ہونا چاہیے، اور یہ خوف انسان کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور گناہوں سے روکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم آج اس دن کے لیے تیاری کر لیں، کیونکہ کل وہ وقت آئے گا جب توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔
یاد رکھو، اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے، لیکن یہ سب کچھ اس دنیا میں ہے۔ آخرت میں صرف عدل ہوگا، ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ لہٰذا آج ہی اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اور اس دن کے خوف کو اپنے دلوں میں زندہ رکھو تاکہ یہ خوف تمہیں نیکی کی راہ پر گامزن رکھے اور گناہوں سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس دن کے خوف کے ساتھ نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 121-125 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 123
سورہ آیت 123/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 121–125. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








