ترجمہ — Tafsir
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
معانی الفاظ:
- تِلْكَ: وہ (جماعت)
- أُمَّةٌ: امت، گروہ
- خَلَتْ: گزر گئی، پیچھے چلی گئی
- لَهَا مَا كَسَبَتْ: ان کے لیے وہ (اعمال) ہیں جو انہوں نے کمائے
- وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ: اور تمہارے لیے وہ (اعمال) ہیں جو تم کماتے ہو
- لَا تُسْأَلُونَ: تم سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ایک اہم حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جماعتیں (جن کا ذکر پہلے ہوا) گزر چکی ہیں، وہ اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہو چکی ہیں۔ انہوں نے جو نیکیاں کیں ان کا اجر انہیں ملے گا، اور جو برائیاں کیں ان کی سزا بھی انہیں بھگتنی ہوگی۔ تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں، نہ تم ان کے اعمال کے ذمہ دار ہو اور نہ وہ تمہارے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔
یہ آیت مسلمانوں کو ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ محض نسب، خاندان یا کسی بزرگ شخصیت سے منسوب ہونے پر فخر کرنا کافی نہیں، بلکہ اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ جس طرح پچھلی امتیں اپنے اعمال کی وجہ سے کامیاب یا ناکام ہوئیں، اسی طرح تم بھی اپنے اعمال کی بنیاد پر اللہ کے ہاں جوابدہ ہوگے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے آباء و اجداد کی نیکیوں پر بھروسہ کرکے بیٹھ نہیں جانا چاہیے، بلکہ خود نیک اعمال کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ہر شخص اپنی کمائی کا پھل پائے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں ایک انقلابی پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنی نجات کا سہارا اپنے اعمال پر بنائیں، نہ کہ صرف نسب پر۔ آج بھی کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں یا فلاں قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، تو ہمیں جنت مل جائے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ صاف فرما رہا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔
یہ آیت ہمیں اپنے عمل پر توجہ دینے کی تلقین کرتی ہے۔ ہم جتنے زیادہ نیک اعمال کریں گے، اتنا ہی زیادہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو عقل اور اختیار دیا ہے، اور اس کے مطابق ہی اس سے حساب لیا جائے گا۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور اللہ کی رضا کے لیے کام کریں۔ یاد رکھیں، کل قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا کہ ہم نے اپنی زندگی کیسے گزاری، اپنے وقت کو کس کام میں صرف کیا، اور اپنے مال کو کہاں خرچ کیا۔ اس لیے آج ہی سے اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 139-143 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 141
سورہ بقرہ آیت 141 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو…سورہ آیت 141/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 139–143. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








