بقرہ · 141/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۝١٤١
Tilka ummatun qad khalat lahaa maa kasabat wa lakum maa kasabtum wa laa tus`aloona `ammaa kaano ya`maloo
📖 اردو ترجمہ
یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
📜

ترجمہ — Tafsir

تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ

معانی الفاظ:

  • تِلْكَ: وہ (جماعت)
  • أُمَّةٌ: امت، گروہ
  • خَلَتْ: گزر گئی، پیچھے چلی گئی
  • لَهَا مَا كَسَبَتْ: ان کے لیے وہ (اعمال) ہیں جو انہوں نے کمائے
  • وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ: اور تمہارے لیے وہ (اعمال) ہیں جو تم کماتے ہو
  • لَا تُسْأَلُونَ: تم سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ایک اہم حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جماعتیں (جن کا ذکر پہلے ہوا) گزر چکی ہیں، وہ اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہو چکی ہیں۔ انہوں نے جو نیکیاں کیں ان کا اجر انہیں ملے گا، اور جو برائیاں کیں ان کی سزا بھی انہیں بھگتنی ہوگی۔ تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں، نہ تم ان کے اعمال کے ذمہ دار ہو اور نہ وہ تمہارے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔

یہ آیت مسلمانوں کو ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ محض نسب، خاندان یا کسی بزرگ شخصیت سے منسوب ہونے پر فخر کرنا کافی نہیں، بلکہ اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ جس طرح پچھلی امتیں اپنے اعمال کی وجہ سے کامیاب یا ناکام ہوئیں، اسی طرح تم بھی اپنے اعمال کی بنیاد پر اللہ کے ہاں جوابدہ ہوگے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے آباء و اجداد کی نیکیوں پر بھروسہ کرکے بیٹھ نہیں جانا چاہیے، بلکہ خود نیک اعمال کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، ہر شخص اپنی کمائی کا پھل پائے گا۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں ایک انقلابی پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنی نجات کا سہارا اپنے اعمال پر بنائیں، نہ کہ صرف نسب پر۔ آج بھی کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں یا فلاں قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، تو ہمیں جنت مل جائے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ صاف فرما رہا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔

یہ آیت ہمیں اپنے عمل پر توجہ دینے کی تلقین کرتی ہے۔ ہم جتنے زیادہ نیک اعمال کریں گے، اتنا ہی زیادہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو عقل اور اختیار دیا ہے، اور اس کے مطابق ہی اس سے حساب لیا جائے گا۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور اللہ کی رضا کے لیے کام کریں۔ یاد رکھیں، کل قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا کہ ہم نے اپنی زندگی کیسے گزاری، اپنے وقت کو کس کام میں صرف کیا، اور اپنے مال کو کہاں خرچ کیا۔ اس لیے آج ہی سے اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 139-143 — بقرہ

139قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ
(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
140أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں
141تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی
142۞ سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے
143وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
141آیت

ترجمہ — بقرہ 141

سورہ بقرہ آیت 141 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو…

سورہ آیت 141/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 139–143. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں