بقرہ · 182/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝١٨٢
Faman khaafa mim moosin janafan aw isman fa aslaha bainahum falaaa ismaa `alayh; innal laaha Ghafooru Raheem
📖 اردو ترجمہ
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • جنفًا: حق سے میل، ناانصافی، وصیت میں کسی وارث کو نقصان پہنچانا یا کسی غیر وارث کو زیادہ دینا۔
  • إثمًا: جان بوجھ کر گناہ کا کام، ظلم اور زیادتی۔
  • فأصلح بينهم: ان کے درمیان صلح کرانا، وصیت کو عدل کے مطابق درست کرنا۔

تفسیر آیت:

یہ آیت وصیت کے معاملے میں ایک بہت بڑی رحمت اور آسانی بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہو کہ وصیت کرنے والا اپنی وصیت میں حق سے ہٹ گیا ہے، خواہ وہ غلطی سے ہو (جنف) یا جان بوجھ کر (اثم)، یعنی اس نے کسی وارث کو محروم کرنے یا کسی غیر وارث کو زیادہ دینے کی وصیت کی ہو، تو اس صورت میں اگر کوئی شخص ان کے درمیان اصلاح کر دے، یعنی وصیت کو عدل اور شریعت کے مطابق درست کر دے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

یہ اصلاح دو طرح سے ہو سکتی ہے: ایک یہ کہ وصیت کے وقت ہی اسے نصیحت کرے اور سمجھائے کہ یہ وصیت درست نہیں، عدل کا راستہ اختیار کرے۔ دوسرا یہ کہ اگر وصیت کرنے والا مر جائے اور وصیت ظلم پر مبنی ہو، تو وارثوں اور مستحقین کے درمیان صلح کرا کر وصیت کو حق اور انصاف کے مطابق تبدیل کر دے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا کہ اصلاح کرنے والا نہ صرف گناہ گار نہیں ہوگا بلکہ وہ اجر کا مستحق ہے، کیونکہ وہ ظلم کو دور کرنے اور لوگوں کے درمیان محبت اور انصاف قائم کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے" — یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اللہ اپنے بندوں کی کمزوریوں اور غلطیوں کو معاف کرنے والا ہے، اور جو لوگ نیکی اور اصلاح کی کوشش کرتے ہیں، ان پر اس کی رحمت خاص ہوتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام امن اور انصاف کا دین ہے۔ اگر کسی جگہ ظلم یا ناانصافی نظر آئے تو خاموش رہنا نہیں چاہیے، بلکہ حکمت اور نرمی سے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اصلاح کرنے والوں کو گناہ سے پاک قرار دیا ہے اور ان کے لیے مغفرت اور رحمت کا وعدہ فرمایا ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے میں بھائی چارگی، محبت اور انصاف قائم کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک بہت پسندیدہ عمل کرتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں بھی اس اصول کو اپنائیں کہ جہاں کہیں بھی اختلاف یا ناانصافی دیکھیں، تو اپنی استطاعت کے مطابق اصلاح کی کوشش کریں، کیونکہ اللہ اصلاح کرنے والوں کو کبھی اجر کے بغیر نہیں چھوڑتا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 180-184 — بقرہ

180كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے
181فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے
182فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے
183يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو
184أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
182آیت

ترجمہ — بقرہ 182

سورہ بقرہ آیت 182 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی…

سورہ آیت 182/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 180–184. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں