بقرہ · 181/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۝١٨١
Famam baddalahoo ba`da maa sami`ahoo fa innamaaa ismuhoo `alallazeena yubaddi loonah; innallaha Samee`un `Aleem
📖 اردو ترجمہ
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَدَّلَهُ: اسے تبدیل کر دیا، بدل دیا۔
  • سَمِعَهُ: اسے سن لیا، وصیت کو جان لیا۔
  • إِثْمُهُ: اس کا گناہ، اس کا وبال۔
  • سَمِيعٌ عَلِيمٌ: سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا۔

تفسیر آیت:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں وصیت کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے بیان فرما رہے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی زندگی میں وصیت کرتا ہے، یعنی اپنے مال یا حقوق کے بارے میں ہدایت دیتا ہے، تو اسے سننے والوں پر لازم ہے کہ وہ اسے بدلیں نہیں، اس میں کمی یا زیادتی نہ کریں، اور نہ ہی اسے چھپائیں۔

آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے وصیت کو سنا اور اس کے بارے میں جان لیا، پھر اس نے اسے تبدیل کر دیا، تو اس تبدیلی کا گناہ صرف تبدیل کرنے والے پر ہوگا، نہ کہ میت پر۔ میت اپنی وصیت سے بری ہے، اس نے جو کہا تھا وہ کہہ دیا، اب جو اسے بدلے گا وہ خود اپنے اوپر وبال لائے گا۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے بڑی تاکید کے ساتھ تبدیلی کرنے والوں کو ڈرایا ہے کہ اللہ سب کچھ سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ وہ سنتا ہے کہ میت نے کیا وصیت کی تھی، اور وہ جانتا ہے کہ تم نے اسے کیسے بدلا۔ تمہارا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں، اور تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ مل کر رہے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام امانت اور دیانت کا دین ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی کی وصیت کو بدلنے سے سختی سے بچے، کیونکہ یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے، ہماری نیتوں اور اعمال سے وہ خوب واقف ہے۔ اگر ہم کسی کی وصیت کو بدلیں گے تو ہم نہ صرف میت کے ساتھ ظلم کریں گے بلکہ اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا مستحق بھی بنائیں گے۔

یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ کی عدالت کامل ہے، وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ جو شخص وصیت کو بدلتا ہے، وہ اپنے لیے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے، اور اللہ اس کے بارے میں پوری طرح باخبر ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم وصیت کو امانت سمجھیں، اسے بدلیں نہیں، اور اللہ سے ڈرتے رہیں، کیونکہ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 179-183 — بقرہ

179وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور اے اہل عقل (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو
180كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے
181فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے
182فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے
183يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
181آیت

ترجمہ — بقرہ 181

سورہ بقرہ آیت 181 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو…

سورہ آیت 181/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 179–183. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں