مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو
📜
ترجمہ — Tafsir
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
معانی الفاظ:
کُتِبَ: فرض کیا گیا، لکھ دیا گیا
الصِّیَامُ: روزہ، جس کا مطلب ہے بھوک، پیاس اور دیگر چیزوں سے رکنا
لَعَلَّکُمْ: تاکہ تم، شاید تم
تَتَّقُونَ: پرہیزگار بن جاؤ، گناہوں سے بچو
تفسیر:
اے ایمان لانے والو! اللہ تعالیٰ نے تم پر روزہ فرض کیا ہے، جیسا کہ اس نے تم سے پہلے امتوں (یہود، نصاریٰ اور دیگر انبیاء کی امتوں) پر بھی فرض کیا تھا۔ یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے، بلکہ یہ عبادت تمام ادیان میں رائج رہی ہے۔ اس فرضیت کا مقصد صرف بھوکا رہنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تم پرہیزگاری حاصل کرو۔ روزہ انسان کو گناہوں سے روکتا ہے، اس کے دل کو نرم کرتا ہے، اور اسے اللہ کی اطاعت کی طرف راغب کرتا ہے۔ جب انسان روزہ رکھتا ہے تو وہ اللہ کی نگرانی کا احساس کرتا ہے، اور اس احساس سے اس کے اندر تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے روزے کو تقویٰ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانوں! روزہ صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ یہ تربیت گاہ ہے۔ یہ ہمیں صبر، بردباری، ہمدردی اور اللہ کی رضا کی طلب سکھاتا ہے۔ جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو ہم بھوکوں کی بھوک محسوس کرتے ہیں، اور یوں ہمارے دل میں غریبوں کے لیے محبت اور ان کی مدد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ روزہ ہمیں دنیا کی لذتوں سے روک کر آخرت کی یاد دلاتا ہے، اور ہمیں اس مقام تک پہنچاتا ہے جہاں ہم اللہ کی رضا کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اللہ نے یہ عبادت ہم پر اس لیے فرض کی ہے تاکہ ہم اس کے قریب ہوں، اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔ آئیے ہم اس عظیم نعمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں، اور اسے اپنی زندگی میں حقیقی معنوں میں اپنائیں، تاکہ ہم تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو سکیں۔
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے
(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے
(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔