بقرہ · 228/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۝٢٢٨
Walmutallaqaatu yatarab basna bi anfusihinna salaasata qurooo`; wa laa yahillu lahunna ai yaktumna maa khalaqal laahu feee arhaaminhinna in kunna yu`minna billaahi wal yawmil aakhir; wa bu`oola tuhunna ahaqqu biraddihinna fee zaalika in araadooo islaahaa; wa lahunna mislul lazee `araihinna bilma`roof; wa lirrijjaali `alaihinna daraja; wallaahu `Azeezun Hakeem
📖 اردو ترجمہ
اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُطَلَّقات: وہ عورتیں جنہیں طلاق دی جا چکی ہو۔
  • یَتَرَبَّصْنَ: انتظار کریں، ٹھہریں۔
  • قُرُوء: حیض کی مدت (بعض مفسرین کے نزدیک تین حیض، بعض کے نزدیک تین طہر
  • بُعُولَتُہُنَّ: ان کے شوہر۔
  • اِصْلاحًا: بھلائی اور میل ملاپ کی نیت۔
  • دَرَجَةٌ: ایک درجہ، فضیلت اور برتری۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں طلاق یافتہ عورتوں کے احکام بیان فرما رہے ہیں۔ جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو اور وہ حیض والی ہوں، ان پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کو روکے رکھیں اور عدت کے طور پر تین حیض یا تین طہر کا انتظار کریں، اس دوران وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کریں۔ یہ حکم اس لیے ہے تاکہ رحم کی پاکیزگی معلوم ہو جائے اور کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے، خواہ وہ حمل ہو یا حیض۔ اگر وہ واقعی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ چھپانا اللہ کی نافرمانی ہے اور ان کے ایمان کے منافی ہے۔ کیونکہ اگر شوہر رجعت (واپسی) کا ارادہ رکھتا ہو اور بیوی حیض یا حمل کی حقیقت چھپا دے تو اس سے شوہر کا حق ضائع ہوتا ہے اور یہ بہت بڑا ظلم ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ان طلاق یافتہ عورتوں کے شوہر ان کی واپسی کے زیادہ حقدار ہیں، بشرطیکہ وہ عدت کے دوران رجعت کریں اور ان کا مقصد اصلاح ہو، یعنی بھلائی، میل ملاپ اور اچھی صحبت کا ارادہ ہو، نہ کہ عورت کو تکلیف دینے یا اس پر ظلم کرنے کی نیت سے۔

پھر اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا اصول بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں، اسی طرح مردوں پر عورتوں کے بھی حقوق ہیں، دونوں کے درمیان برابری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ حاصل ہے، کیونکہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں اور گھر کے معاملات کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ یہ درجہ ظلم یا برتری کا نہیں، بلکہ ذمہ داری اور قوامیت کا درجہ ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان فرماتے ہیں کہ وہ عزیز ہے، یعنی غالب اور طاقتور ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا، اور وہ حکیم ہے، یعنی ہر حکم میں اس کی مصلحت اور حکمت ہے۔ وہ جو حکم دیتا ہے، بندوں کی بھلائی کے لیے دیتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام نے عورت کو عزت اور حقوق دیے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا بھی مکمل انتظام کیا ہے۔ عدت کا حکم عورت کی عزت اور خاندان کی حفاظت کے لیے ہے، تاکہ نسب میں کوئی اختلاط نہ ہو اور معاشرہ پاکیزہ رہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام کو اپنی آنکھوں کا ٹھنڈک اور دل کی راحت بنائیں، کیونکہ جو شخص اللہ کے احکام پر عمل کرتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو جو مقام دیا ہے، وہ کسی اور مذہب یا نظام میں نہیں ملتا، اس لیے ہمیں اپنے دین پر فخر کرنا چاہیے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ بنانا چاہیے۔



📜 آیت 226-230 — بقرہ

226لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
227وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے
228وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے
229الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے
230فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
228آیت

ترجمہ — بقرہ 228

سورہ بقرہ آیت 228 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے…

سورہ آیت 228/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 226–230. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں