بقرہ · 227/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۝٢٢٧
Wa in `azamut talaaqa fa innal laaha Samee`un `Aleem
📖 اردو ترجمہ
اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عَزَمُوا: پختہ ارادہ کیا، قصدِ مضبوط کیا۔
  • الطَّلَاقَ: بیوی کو علیحدہ کرنا، نکاح ختم کرنا۔
  • سَمِيعٌ: سب کچھ سننے والا۔
  • عَلِيمٌ: ہر چیز کا علم رکھنے والا، نیتوں اور دلوں کے بھید جاننے والا۔

تفسیرِ آیت:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا ہو، یعنی قسم کھائی ہو کہ وہ اپنی بیوی سے قریب نہیں ہوں گے اور یہ مدت چار ماہ گزر چکی ہو۔ اب ان کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ اپنی قسم سے رجوع کریں اور اپنی بیوی کے پاس واپس آئیں، یا پھر وہ طلاق دینے کا پختہ ارادہ کر لیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر انہوں نے طلاق کا عزمِ مصمم کر لیا، یعنی اپنی بیوی سے علیحدگی کا فیصلہ قطعی کر لیا اور اس پر قائم رہے، تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سَمِيعٌ ہے یعنی ان کی تمام باتوں کو سننے والا ہے، خواہ وہ طلاق کا لفظ زبان سے ادا کریں یا دل میں ارادہ کریں۔ اور وہ عَلِيمٌ ہے یعنی ان کے دلوں کی نیتوں، ارادوں اور مقاصد سے مکمل طور پر باخبر ہے۔ کوئی بات، کوئی لفظ، کوئی نیت اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔

یہ آیت مسلمانوں کو اللہ کی عظمت اور اس کی نگرانی کا احساس دلاتی ہے کہ ہر شخص کا ہر عمل، ہر قول اور ہر نیت اللہ کے علم میں ہے، اور وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ جو شخص طلاق دیتا ہے، وہ اللہ کے سامنے اس کا ذمہ دار ہوگا، چاہے وہ اسے چھپائے یا ظاہر کرے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے، خاص کر خاندانی معاملات میں۔ طلاق ایک انتہائی اہم فیصلہ ہے، جسے اللہ کی نگرانی میں، عدل اور حکمت کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سنتا اور ہر نیت جانتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے فیصلوں میں تقویٰ اور عدل کو ملحوظ رکھیں۔ نیز یہ آیت ہمیں اللہ کی صفاتِ کمال کا تعارف کراتی ہے کہ وہ سمیع و علیم ہے، جو ہمیں ہر حال میں یاد رکھے اور ہمارے اعمال کا محاسبہ کرے۔ یہ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ہر عمل میں اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھیں، تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 225-229 — بقرہ

225لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ
خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
226لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
227وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے
228وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے
229الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
227آیت

ترجمہ — بقرہ 227

سورہ بقرہ آیت 227 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا…

سورہ آیت 227/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 225–229. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں