Fa in tallaqahaa falaa tahillu lahoo mim ba`du hattaa tankiha zawjan ghairah; fa in tallaqahaa falaa junaaha `alaihimaaa ai yataraaja`aaa in zannaaa ai yuqeemaa hudoodal laa; wa tilka hudoodul laahi yubaiyinuhaa liqawminy ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پس اگر باز زن را طلاق داد ديگر بر او حلال نيست، مگر آنكه به نكاح مردى ديگر درآيد؛ و هرگاه آن مرد آن را طلاق دهد، اگر مىدانند كه حدود خدا را رعايت مىكنند رجوعشان را گناهى نيست. اينها حدود خدا است كه براى مردمى دانا بيان مىكند.
پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
طَلَّقَهَا: تیسری طلاق دی۔
تَنکِحَ: نکاح کرے (صحیح اور رغبت سے)۔
زَوْجًا غَیرَهُ: اس کے پہلے شوہر کے علاوہ کوئی دوسرا مرد۔
یُقِیمَا حُدُودَ اللّٰہِ: اللہ کے مقرر کردہ احکام (حقوقِ زوجیت) کو قائم رکھیں۔
حُدُودُ اللّٰہِ: اللہ کی مقرر کردہ حدیں (احکام)۔
تفسیر:
جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لیے حرام ہو جاتی ہے، اور اس کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک وہ عورت کسی دوسرے مرد سے صحیح اور باقاعدہ نکاح نہ کرے، اور یہ نکاح خالص رغبت اور حاجت سے ہو، نہ کہ صرف پہلے شوہر کے لیے حلال کرنے کی نیت سے۔ اس دوسرے نکاح میں خلوت اور صحبت (ازدواجی تعلق) بھی ضروری ہے۔ پھر اگر وہ دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے، اور عورت عدت گزار لے، تو اب پہلے شوہر اور اس عورت کے لیے کوئی گناہ نہیں کہ وہ نئے عقد اور نئے مہر کے ساتھ دوبارہ ایک دوسرے سے نکاح کر لیں، بشرطیکہ انہیں یقین یا غالب گمان ہو کہ وہ اللہ کے مقرر کردہ حدود (حقوقِ زوجیت) کو قائم رکھ سکیں گے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جنہیں وہ ان لوگوں کے لیے واضح بیان کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں اور ان حدود کو سمجھتے ہیں، کیونکہ وہی لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خاندانی نظام کی مضبوطی کے لیے انتہائی حکمت والے قوانین بیان فرمائے ہیں۔ طلاق کو تین مراحل میں تقسیم کر کے اللہ نے انسان کو غصے اور جذباتی فیصلوں سے بچایا ہے، اور تیسری طلاق کے بعد دوسرے نکاح کی شرط اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ طلاق کو کھلونا نہ بنایا جائے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے دروازے بند نہیں کیے، بلکہ سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ دوبارہ جوڑنے کی اجازت دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے ان احکام کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں، کیونکہ انہی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان حدود کو بیان فرمایا ہے تاکہ ہم علم کے ساتھ عمل کریں اور اپنے گھروں کو سکون اور محبت کا گہوارہ بنائیں۔
اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کا جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے
طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے
پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں
اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔