بقرہ · 262/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝٢٦٢
Allazeena yunfiqoona amwaalahum fee sabeelillaahi summa laa yutbi`oona maaa anfaqoo mannanw wa laaa azal lahum ajruhum `inda Rabbihim; wa laa khawfun `alaihim wa laa hum yahzanoon
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر اس خرچ کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ کسی کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

معانی الفاظ:

  • يُنفِقُونَ: خرچ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں مال دیتے ہیں۔
  • سَبِيلِ اللَّهِ: اللہ کی راہ، جس میں جہاد، خیرات، اور ہر وہ کام شامل ہے جو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔
  • مَنًّا: احسان جتانا، کسی کو دیے ہوئے مال کا ذکر کرکے اسے جھڑکنا۔
  • أَذًى: تکلیف دینا، ستانا، چاہے قول سے ہو یا فعل سے۔

تفسیر:

یہ آیت ان مخلص بندوں کی تعریف بیان کرتی ہے جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، خواہ وہ جہاد ہو، غریبوں کی مدد ہو، یا کوئی اور نیک کام۔ لیکن اس خرچ کے بعد وہ دو چیزوں سے بچتے ہیں: ایک یہ کہ کسی پر احسان نہیں جتاتے، یعنی یہ نہیں کہتے کہ "ہم نے تمہیں اتنا دیا، ہم نے تمہاری مدد کی" — کیونکہ احسان جتانا نیکی کو برباد کر دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتے، نہ زبان سے طعنہ دیتے ہیں اور نہ کسی عمل سے کسی کو ستاتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا صدقہ خالص اللہ کے لیے کیا، بغیر کسی دنیاوی غرض کے، بغیر دکھاوے کے، اور بغیر کسی کو نیچا دکھانے کے۔ ان کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہے، جو انہیں قیامت کے دن ملے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں دو عظیم بشارتیں دیتا ہے: ایک یہ کہ انہیں مستقبل کا کوئی خوف نہیں ہوگا، کیونکہ وہ اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ماضی پر غمگین نہیں ہوں گے، کیونکہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا، وہ اللہ کی رضا کے لیے تھا، اور اللہ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہترین سبق ملتا ہے کہ صدقہ و خیرات کی قبولیت کا دارومدار صرف مال دینے پر نہیں، بلکہ اس کے بعد کے رویے پر بھی ہے۔ اگر ہم کسی کو کچھ دیں اور پھر اسے جھڑکیں یا احسان جتائیں، تو ہماری نیکی کا اجر ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ خیرات کرو، لیکن اسے اس طرح کرو جیسے تم اللہ سے معاملہ کر رہے ہو — خالص، بغیر کسی دنیاوی غرض کے۔ جب ہم اپنے دل کو صاف رکھیں گے اور کسی پر احسان نہیں جتائیں گے، تو اللہ ہمیں نہ صرف دنیا میں سکون دے گا بلکہ آخرت میں بھی خوف اور غم سے محفوظ رکھے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور اس کی رضا تک پہنچاتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 260-264 — بقرہ

260وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔
261مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
262الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
263۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ
جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے
264يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
262آیت

ترجمہ — بقرہ 262

سورہ بقرہ آیت 262 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے…

سورہ آیت 262/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 260–264. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں