Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ: اچھی بات، نرم کلام، یا کوئی اچھا وعدہ یا دعا۔
- مَغْفِرَةٌ: درگزر کرنا، معاف کرنا، کسی کی غلطی یا تلخی کو نظر انداز کر دینا۔
- صَدَقَةٌ يَتْبَعُهَا أَذًى: وہ صدقہ جس کے بعد احسان جتلانا، تکلیف دینا، یا کسی طرح کی ایذا رسانی ہو۔
- غَنِيٌّ: بے نیاز، جو کسی کے صدقے کا محتاج نہ ہو۔
- حَلِيمٌ: بردبار، جو جلدی سزا نہ دینے والا ہو۔
تفسیر:
پیارے بھائیو اور بہنو! اللہ تعالیٰ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ صدقہ و خیرات کا اصل مقصد کیا ہے اور کس طرح کا صدقہ اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم کسی سائل (مانگنے والے) کو نرمی سے جواب دو، اس کے ساتھ اچھی بات کرو، اس کی دلجوئی کرو، یا اس کی کسی تلخی اور بے جا اصرار کو معاف کر دو، تو یہ اس صدقے سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد تم اس پر احسان جتلاؤ، اسے تکلیف دو، یا اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچاؤ۔
یاد رکھو! صدقہ صرف پیسہ دینے کا نام نہیں، بلکہ ایک اچھا کلمہ، ایک مسکراہٹ، ایک دعا، اور درگزر کرنا بھی صدقہ ہے۔ اور اگر تم نے کسی کو کچھ دیا اور پھر اسے اپنے احسان کا طعنہ دیا، تو اس کا ثواب ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ تم نرم بات کرو اور درگزر کرو، بجائے اس کے کہ صدقہ دے کر کسی کو ایذا دو۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں اپنی دو صفات بیان فرمائیں:
- غَنِيٌّ: اللہ تعالیٰ تمہارے صدقات کا محتاج نہیں۔ وہ خود بے نیاز ہے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہارے دلوں کو پاک کرے اور تمہارے درجات بلند کرے۔ اگر تم صدقہ دے کر احسان جتلاؤ گے تو اللہ کو اس صدقے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ تمہارے لیے وبال بن جائے گا۔
- حَلِيمٌ: اللہ تعالیٰ بردبار ہے، وہ جلدی سزا نہیں دیتا۔ اگر کوئی شخص صدقہ دے کر احسان جتلائے یا کسی کو ایذا پہنچائے تو اللہ اسے فوراً پکڑ نہیں لیتا، بلکہ اسے مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لے۔ یہ اللہ کی رحمت اور بردباری ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ اخلاقیات اور معاشرتی حسن سلوک کا بھی نام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان کو نرم رکھیں، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کریں، اور اگر کسی کو کچھ دیں تو اس پر احسان نہ جتلائیں۔ یاد رکھیں، ایک مسلمان کی زبان اور اس کا برتاؤ اس کے ایمان کا آئینہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو نرم گفتار ہیں، درگزر کرنے والے ہیں، اور دوسروں کے دلوں کو خوش رکھنے والے ہیں۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں اس خوبصورت تعلیم پر عمل کریں اور اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔ آمین۔
📜 آیت 261-265 — سورہ بقرہ
ترجمہ — بقرہ 263
سورہ بقرہ آیت 263 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی…سورہ آیت 263/286 — سورہ بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ بقرہ سنیں, سورہ بقرہ ترجمہ, سورہ بقرہ mp3, سورہ بقرہ pdf. آیت 261–265. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


