بقرہ · 263/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
۞ قَوۡلٌ مَّعۡرُوفٌ وَمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتۡبَعُهَآ أَذًىۗ وَٱللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ  ۝٢٦٣
Qawlum ma`roofunw wa maghfiratun khairum min sadaqatiny yatba`uhaaa azaa; wallaahu Ghaniyyun Haleem
📖 اردو ترجمہ
جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ: اچھی بات، نرم کلام، یا کوئی اچھا وعدہ یا دعا۔
  • مَغْفِرَةٌ: درگزر کرنا، معاف کرنا، کسی کی غلطی یا تلخی کو نظر انداز کر دینا۔
  • صَدَقَةٌ يَتْبَعُهَا أَذًى: وہ صدقہ جس کے بعد احسان جتلانا، تکلیف دینا، یا کسی طرح کی ایذا رسانی ہو۔
  • غَنِيٌّ: بے نیاز، جو کسی کے صدقے کا محتاج نہ ہو۔
  • حَلِيمٌ: بردبار، جو جلدی سزا نہ دینے والا ہو۔

تفسیر:

پیارے بھائیو اور بہنو! اللہ تعالیٰ ہمیں سکھا رہے ہیں کہ صدقہ و خیرات کا اصل مقصد کیا ہے اور کس طرح کا صدقہ اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم کسی سائل (مانگنے والے) کو نرمی سے جواب دو، اس کے ساتھ اچھی بات کرو، اس کی دلجوئی کرو، یا اس کی کسی تلخی اور بے جا اصرار کو معاف کر دو، تو یہ اس صدقے سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد تم اس پر احسان جتلاؤ، اسے تکلیف دو، یا اس کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچاؤ۔

یاد رکھو! صدقہ صرف پیسہ دینے کا نام نہیں، بلکہ ایک اچھا کلمہ، ایک مسکراہٹ، ایک دعا، اور درگزر کرنا بھی صدقہ ہے۔ اور اگر تم نے کسی کو کچھ دیا اور پھر اسے اپنے احسان کا طعنہ دیا، تو اس کا ثواب ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ تم نرم بات کرو اور درگزر کرو، بجائے اس کے کہ صدقہ دے کر کسی کو ایذا دو۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں اپنی دو صفات بیان فرمائیں:

  1. غَنِيٌّ: اللہ تعالیٰ تمہارے صدقات کا محتاج نہیں۔ وہ خود بے نیاز ہے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ تمہارے دلوں کو پاک کرے اور تمہارے درجات بلند کرے۔ اگر تم صدقہ دے کر احسان جتلاؤ گے تو اللہ کو اس صدقے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ تمہارے لیے وبال بن جائے گا۔
  2. حَلِيمٌ: اللہ تعالیٰ بردبار ہے، وہ جلدی سزا نہیں دیتا۔ اگر کوئی شخص صدقہ دے کر احسان جتلائے یا کسی کو ایذا پہنچائے تو اللہ اسے فوراً پکڑ نہیں لیتا، بلکہ اسے مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کر لے۔ یہ اللہ کی رحمت اور بردباری ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ اخلاقیات اور معاشرتی حسن سلوک کا بھی نام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان کو نرم رکھیں، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کریں، اور اگر کسی کو کچھ دیں تو اس پر احسان نہ جتلائیں۔ یاد رکھیں، ایک مسلمان کی زبان اور اس کا برتاؤ اس کے ایمان کا آئینہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو نرم گفتار ہیں، درگزر کرنے والے ہیں، اور دوسروں کے دلوں کو خوش رکھنے والے ہیں۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں اس خوبصورت تعلیم پر عمل کریں اور اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 261-265 — بقرہ

261مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنۢبُلَةٍ مِّاْئَةُ حَبَّةٍۗ وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ 
جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
262ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتۡبِعُونَ مَآ أَنفَقُواْ مَنًّا وَلَآ أَذًى لَّهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ 
جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
263۞ قَوۡلٌ مَّعۡرُوفٌ وَمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتۡبَعُهَآ أَذًىۗ وَٱللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ 
جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے
264يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُبۡطِلُواْ صَدَقَٰتِكُم بِٱلۡمَنِّ وَٱلۡأَذَىٰ كَٱلَّذِي يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۖ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٌ فَتَرَكَهُۥ صَلۡدًاۖ لَّا يَقۡدِرُونَ عَلَىٰ شَيۡءٍ مِّمَّا كَسَبُواْۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ 
مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
265وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتًا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةِۭ بِرَبۡوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَـَٔاتَتۡ أُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ فَإِن لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ 
اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
263آیت

ترجمہ — بقرہ 263

سورہ آیت 263/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 261–265. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں