In tubdus sadaqaati fani`immaa hiya wa in tukhfoohaa wa tu`toohal fuqaraaa`a fahuwa khayrul lakum; wa yukaffiru `ankum min saiyi aatikum; wallaahu bimaa ta`maloona Khabeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر آشكارا صدقه دهيد كارى نيكوست و اگر در نهان به بينوايان صدقه دهيد نيكوتر است و گناهان شما را مىزدايد. و خدا به كارهايى كه مىكنيد آگاه است.
اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ: اگر تم اپنے صدقات کو ظاہر کرو۔
فَنِعِمَّا هِيَ: تو وہ بہت اچھی چیز ہے۔
وَإِن تُخْفُوهَا: اور اگر تم انہیں چھپاؤ۔
وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ: اور انہیں فقراء کو دو۔
فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ: تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔
وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ: اور وہ تمہاری برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔
خَبِيرٌ: خوب جاننے والا، ہر چیز سے باخبر۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تم اپنے صدقات کو ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھی بات ہے، کیونکہ اس سے دوسروں کو نیکی کی ترغیب ملتی ہے اور صدقہ دینے والا دوسروں کے لیے نمونہ بنتا ہے۔ لیکن اگر تم اپنے صدقات کو چھپا کر صرف اللہ کی رضا کے لیے فقراء و مساکین کو دو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر اور افضل ہے، کیونکہ اس میں ریا اور دکھاوے کا خطرہ نہیں ہوتا، اور یہ اخلاص کے زیادہ قریب ہے۔
یہ بات یاد رکھیں کہ صدقہ خیرات صرف مال کا نہیں بلکہ ہر نیکی صدقہ ہے، چاہے وہ مسکراہٹ ہو، اچھا کلمہ ہو، یا کسی کی مدد کرنا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بھی فرمایا کہ صدقہ دینے سے تمہارے گناہ معاف ہوتے ہیں، خاص طور پر چھوٹے گناہ، جیسے آگ پانی کو جلتی ہے، ویسے ہی صدقہ گناہوں کو مٹاتا ہے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ایسا عمل عطا کیا جس سے وہ اپنے گناہوں کی بخشش کروا سکتے ہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمہارے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، چاہے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ، وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر عمل کا بدلہ دے گا۔ یہ بات مسلمان کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ ہمیشہ نیکی کرے، چاہے لوگ دیکھیں یا نہ دیکھیں، کیونکہ اللہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اسے چھپا کر کریں، تاکہ ہمارا اخلاص برقرار رہے۔ یہ وہی تعلیم ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے دی، آپ ﷺ خود بھی چھپ کر صدقہ کیا کرتے تھے۔ آج کے دور میں جب لوگ نیکی کو بھی دکھاوے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل نیکی وہ ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ اگر ہم اپنے صدقات کو چھپا کر دیں گے تو اللہ ہمارے گناہ معاف کر دے گا اور ہمیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس پر بھروسہ کریں اور اپنے اخلاص کو مضبوط کریں۔
اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے
(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،
(اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔