ترجمہ — Tafsir
آیت نمبر 30 کا تفسیر
پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:
- خلیفہ: وہ شخص جو کسی کے بعد اس کی جگہ لے، اور یہاں مراد حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی نسل ہے جو زمین پر اللہ کے نائب اور امین ہوں گے۔
- یَسْفِکُ الدِّمَاءَ: خون بہانا، ناحق قتل کرنا۔
- نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ: ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تیری تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں۔
- نُقَدِّسُ لَکَ: ہم تیری تقدیس کرتے ہیں، یعنی تجھے ہر عیب اور نقص سے پاک جانتے ہیں اور تیری بڑائی بیان کرتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اے رسول! اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا: "میں زمین پر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔" یعنی میں زمین پر ایک ایسی مخلوق پیدا کروں گا جو ایک دوسرے کی جگہ لے گی اور زمین کو آباد کرے گی، اور یہ خلیفہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد ہیں۔
فرشتوں نے یہ سنا تو انہوں نے سوال کیا — اور یہ سوال کسی اعتراض یا ضد کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ حکمت و مصلحت جاننے کے لیے تھا — انہوں نے عرض کیا: "اے ہمارے رب! کیا تو زمین پر ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا جو فساد پھیلائیں گے اور ناحق خون بہائیں گے؟" فرشتوں کو اللہ کے علم سے یہ معلوم تھا کہ انسان کی نسل میں سے کچھ لوگ ظلم اور فساد کریں گے، اس لیے انہوں نے یہ استفسار کیا۔ پھر انہوں نے اپنی اطاعت اور عبادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ہم تیری تسبیح کرتے ہیں، تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتے ہیں، اور تیرے لیے تقدیس کرتے ہیں، یعنی ہم تجھے ہر عیب سے پاک جانتے ہیں اور تیری بڑائی بیان کرتے ہیں۔"
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس استفسار کا جواب دیا: "میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔" یعنی اس خلیفہ بنانے میں بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں جن کا تمہیں علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اس لیے خلیفہ بنایا تاکہ وہ اس کی عبادت کرے، زمین کو آباد کرے، حق و عدل قائم کرے، اور اللہ کے احکامات کو نافذ کرے۔ انسان میں فرشتوں کے مقابلے میں اختیار اور آزادی ہے، اور اس اختیار کی وجہ سے وہ اپنے اعمال سے اللہ کی اطاعت کا ثبوت دے سکتا ہے۔ فرشتے تو فطرتاً اطاعت کرنے والے ہیں، لیکن انسان کو اپنی مرضی سے اللہ کی اطاعت کرنے کا شرف دیا گیا، اور یہی اس کا امتحان ہے۔
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
- انسان کی عزت و شرافت: اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے زمین کا خلیفہ مقرر کیا، یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔
- علم کی فضیلت: اللہ نے فرشتوں کو یہ بتا کر کہ "میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے" یہ واضح کیا کہ علم کی برتری بہت اہم ہے، اور انسان کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
- عاجزی اور انکساری: فرشتوں کا سوال ادب اور عاجزی کے ساتھ تھا، اور اللہ نے انہیں نرمی سے جواب دیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب ہمیں کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ہم اللہ سے ادب کے ساتھ دعا کریں اور علم کی دعا مانگیں۔
- اللہ کی حکمت پر بھروسہ: اللہ جو کچھ کرتا ہے اس میں حکمت ہوتی ہے، چاہے ہم اسے سمجھ نہ پائیں۔ ہمیں اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت بڑی ذمہ داری دی ہے، اور ہمیں اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہے۔ ہمیں زمین پر فساد پھیلانے کے بجائے امن، عدل اور بھلائی پھیلانی چاہیے۔ ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنا چاہیے تاکہ ہم اس خلیفہ ہونے کے شرف کا حق ادا کر سکیں۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے، آمین۔
📜 آیت 28-32 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 30
سورہ بقرہ آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے…سورہ آیت 30/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








