بقرہ · 31/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ۝٣١
Wa `allama Aadamal asmaaa`a kullahaa summa `aradahum `alal malaaa`ikati faqaala ambi`oonee bias maaa`i haaa`ulaaa`i in kuntum saadiqeen
📖 اردو ترجمہ
اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عَلَّمَ: سکھایا، تعلیم دیا۔
  • الْأَسْمَاءَ: نام، اشیاء کے نام۔
  • عَرَضَهُمْ: انہیں پیش کیا (یہاں مسمّیات یعنی جن چیزوں کے نام تھے انہیں پیش کیا گیا
  • أَنبِئُونِي: مجھے بتاؤ، خبر دو۔
  • صَادِقِينَ: سچے، اپنے دعوے میں سچے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھائے، چاہے وہ جانور ہوں، جمادات ہوں یا دوسری مخلوقات۔ انہیں الفاظ اور ان کے معانی دونوں کا علم عطا فرمایا۔ یہ حضرت آدم علیہ السلام کی عظمت اور فضیلت کا اظہار تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان مسمّیات (جن چیزوں کے نام سکھائے گئے تھے) کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: "اگر تم سچے ہو (اپنے اس دعوے میں کہ تم آدم سے افضل اور علم میں زیادہ ہو)، تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔" یہ فرشتوں کے لیے ایک امتحان تھا، تاکہ انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کا یقین ہو جائے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی عزت اور شرافت کو ظاہر کیا ہے کہ اسے علم سکھا کر فرشتوں پر فضیلت دی گئی۔ علم ہی وہ چیز ہے جو انسان کو بلندی عطا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشیاء کے نام سکھا کر یہ ثابت کیا کہ انسان علم کے ذریعے ترقی کر سکتا ہے اور اللہ کی زمین پر خلافت کے لائق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ علم حاصل کریں، کیونکہ علم ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے اور دوسروں پر فضیلت پاتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل فرماتا ہے اور انہیں ایسی چیزیں عطا کرتا ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوتیں۔ لہٰذا ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے علم کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 29-33 — بقرہ

29هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے
30وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
31وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ
32قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے
33قَالَ يَا آدَمُ أَنبِئْهُم بِأَسْمَائِهِمْ ۖ فَلَمَّا أَنبَأَهُم بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ
(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
31آیت

ترجمہ — بقرہ 31

سورہ بقرہ آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے…

سورہ آیت 31/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں