ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَذْکِرَةً: نصیحت، یاد دہانی، وہ چیز جو دل کو جگائے اور غفلت سے بیدار کرے۔
- یَخْشَىٰ: ڈرے، خوف کھائے (یہاں مراد اللہ کا خوف اور اس کے عذاب کا ڈر ہے)۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد بیان فرما رہے ہیں۔ قرآن کوئی مشکل یا بوجھ بنانے کے لیے نہیں اترا، بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف نصیحت اور یاد دہانی ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے باعثِ ہدایت ہے جو اپنے دل میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں، جو اپنے رب کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتے ہیں، اور جو اپنے انجام سے بے خبر نہیں۔
یہ خوف محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ عمل کی تحریک ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، وہ اس کے حکموں کو مانتا ہے، فرائض ادا کرتا ہے، اور حرام کاموں سے بچتا ہے۔ قرآن اسی خوف کو بیدار کرنے اور اسے عمل میں ڈھالنے کا ذریعہ ہے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کا اصل مخاطب وہ دل ہے جو خشیت رکھتا ہے۔ جس طرح بارش نرم زمین کو سیراب کرتی ہے اور اس سے پھل پھول نکلتے ہیں، اسی طرح قرآن کے نزول کا اثر ان دلوں پر ہوتا ہے جو اللہ کے خوف سے نرم ہو چکے ہوں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بہت بڑی خوشخبری دیتی ہے۔ قرآن کوئی بوجھ نہیں، کوئی مشکل کتاب نہیں، بلکہ یہ تو رحمت ہے، شفا ہے، اور نور ہے۔ اگر آج ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہو جائے، تو قرآن ہمارے لیے ہر مشکل کا حل بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب آسان زبان میں اتاری تاکہ ہر شخص اسے سمجھے اور اس پر عمل کرے۔ آئیے! ہم اپنے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کریں، قرآن کی تلاوت کریں، اس پر غور کریں، اور اس پر عمل کریں۔ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔ اللہ ہمیں اپنی خشیت عطا فرمائے اور قرآن کو ہمارے لیے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین۔
📜 آیت 1-5 — طہ
ترجمہ — طہ 3
سورہ طہ آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لئے (نازل کیا…سورہ آیت 3/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








