حج · 11/78
ترجمہ تلفظ — حج
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ۝١١
Wa minan naasi mai ya`budul laaha `alaa harfin fa in asaabahoo khairunit maanna bihee wa in asaabat hu fitnatunin qalaba `alaa wajhihee khasirad dunyaa wal aakhirah; zaalika huwal khusraanul mubeen
📖 اردو ترجمہ
اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عَلَىٰ حَرْفٍ: کنارے پر، یعنی دین میں داخل ہونے میں شک اور اضطراب کی حالت، جیسے کوئی شخص پہاڑ کے کنارے پر کھڑا ہو۔
  • اطْمَأَنَّ: مطمئن ہو گیا، دل جم گیا۔
  • فِتْنَةٌ: آزمائش، مصیبت، تنگی اور مشکل۔
  • انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ: اُلٹا پھر گیا، یعنی کفر کی طرف لوٹ گیا۔
  • الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ: واضح اور ظاہر نقصان۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا ہے جو اسلام میں داخل تو ہوتا ہے، لیکن اس کا ایمان کمزور اور سطحی ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی عبادت اس طرح کرتا ہے جیسے کوئی شخص کسی پہاڑ یا دیوار کے کنارے پر کھڑا ہو کر نماز پڑھے — نہ اسے استحکام ہوتا ہے اور نہ ثبات۔ ایسا شخص اپنے ایمان کو دنیاوی مفادات سے مشروط کر لیتا ہے۔

اگر اسے دنیا میں خوشحالی، صحت، دولت اور آسائش ملتی ہے تو وہ اپنے دین پر مطمئن رہتا ہے اور عبادت جاری رکھتا ہے۔ لیکن جب اسے کوئی آزمائش آتی ہے — جیسے بیماری، غربت، پریشانی یا کوئی مصیبت — تو وہ فوراً بددل ہو جاتا ہے، اپنے دین کو برا بھلا کہتا ہے اور کفر کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ یہ اس شخص کی مثال ہے جو سیدھا چلتے چلتے اچانک اُلٹا منہ کے بل گر پڑے۔

ایسے شخص کا نقصان دوہرا ہے:

  1. دنیا کا نقصان: اس کے کفر کی وجہ سے اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی روزی یا مصیبت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ جو کچھ اسے ملنا تھا وہ مل گیا، لیکن اس نے ایمان کی برکت، سکونِ قلب اور اللہ کی مدد کھو دی۔
  2. آخرت کا نقصان: یہ شخص جہنم کا مستحق بن گیا، کیونکہ اس نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا۔ یہی واضح اور عظیم نقصان ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں (اگر وہ انہیں چھوڑ دیں) اور نہ فائدہ پہنچا سکتی ہیں (اگر وہ ان کی عبادت کریں)۔ وہ ایسے معبودوں کو پکارتے ہیں جن کا نقصان ان کے فائدے سے زیادہ قریب ہے۔ کیسا برا ساتھی ہے وہ معبود، اور کیسی بری رفاقت ہے!

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایمان مضبوط اور پختہ ہونا چاہیے، نہ کہ حالات پر منحصر۔ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو خوشحالی میں بھی اللہ کا شکر ادا کرے اور مصیبت میں بھی صبر کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے تاکہ دیکھے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ اگر ہم مصیبت میں بھی اللہ پر بھروسہ رکھیں تو وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یاد رکھیں! یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، آرام کی جگہ نہیں۔ جو لوگ اپنے ایمان کو دنیاوی فائدوں سے جوڑ لیتے ہیں، وہ آخرت میں سخت نقصان اٹھائیں گے۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو ایمان پر مضبوط کرے۔ آمین!

🎧 سنیں

📜 آیت 9-13 — حج

9ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۖ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَنُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابَ الْحَرِيقِ
(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے گمراہ کردے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے
10ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ
(اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں
11وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ
اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے
12يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنفَعُهُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ
یہ خدا کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے
13يَدْعُو لَمَن ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِن نَّفْعِهِ ۚ لَبِئْسَ الْمَوْلَىٰ وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ
ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدہ سے زیادہ قریب ہے۔ ایسا دوست برا بھی اور ایسا ہم صحبت بھی برا
حجقرآن فہرست
78آیت
مدنیRevelation
11آیت

ترجمہ — حج 11

سورہ حج آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر…

سورہ آیت 11/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں